این فرینک کی ڈائری ،آوازدوست اور ایمسٹرڈم

این فرینک کی ڈائری ،آوازدوست اور ایمسٹرڈم

’’اگرآپ خوش رہناچاہتے ہیں تو آپ کو کام کرتے رہناچاہیے اور سست نہیں ہوناچاہیے " یہ بات ایک تیرہ سالہ لڑکی نے اس وقت اپنی نوٹ بک میں لکھی جب وہ اپنا وطن جرمنی چھوڑکر ہالینڈکے شہرایمسٹرڈم کے ایک بنکر میں چھپی ہوئی تھی۔۱۲جنوری ۱۹۴۲ء کو اپنی تیرھویں سالگرہ پر ملنے والے نوٹ بک کے تحفے کو اس نے اپنے لیے ہی نہیں اپنی پوری قوم کے لیے ایک یادگار دستاویزبنادیا۔وہ اپنی نوٹ بک کو Kittyکہتی اوراس سے باتیں کرتی تھی ۔نوٹ بک کے تحفے کو پوری قوم کے لیے تحفہ بنادینے کی ایک مثال آوازدوست ہے ۔فرق یہ ہے کہ وہ نوٹ بک تھی تویہ آٹوگراف بک۔ آوازدوست کا سفر ۱۳دسمبر۱۹۳۸ء کو شروع ہوا جب شیخ عطاء اللہ کے گھرآنے والے چینی مہمان سے پانچویں جماعت کے طالب علم مختارمسعود نے اپنی زندگی کا پہلا آٹوگراف لیا۔محمدابراہیم شاکیوچن کاجوآٹوگراف آپ آوازدوست میں نہیں دیکھ سکے وہ آج ان سطورمیں دیکھ لیجیے۔چینی مہمان نے پانچویں جماعت کے بچے کو بتایاتھا:

Where there is a father there is a son

تیرہ سالہ لڑکی کا باپ اپنی بیٹوں جیسی بیٹی کو فرینکفرٹ سے ہالینڈ لے آیاتھا ہالینڈکے لوگوں کو ہم اردووالے ولندیزی کہتے ہیں ۔وہ ایک ولندیزی لڑکا تھا جوسرماکی ایک شام سمندری پشتے پر 

جارہاتھاکہ اس کی نظرایک چھوٹے سے سوراخ پرپڑی اس نے سوچاکہ اگروہ گائوں جاکر اس کی خبرکرے گا تو اتنی دیرمیں پانی کے زورسے پشتے میں شگاف ہوجائے گا اورپھروہ ساری بستیاں اور وہ سارے کھیت  جو سطح سمندرسے نیچے ہیں، غرق ہوجائیں گے ۔وہ اس سوراخ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔ رات آئی تووہ اسی حالت میں سوگیا۔پہلے سردی اور پھرموت سے اس کا جسم اکڑ گیا مگر ننھا سا ہاتھ جوں کاتوں پشتے کے چھوٹے سے سوراخ پر رکھا رہا، صبح ہوئی تولوگوں نے دیکھاکہ ان کا محسن ایک بہادرلڑکاہے ……آٹوگراف بک والے مختار مسعود نے جب بہادر ولندیزی لڑکے کی یہ کہانی پڑھی توان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوگاکہ این فرینک اور اس کے خاندان کو ولندیزیوں کے ہاں پناہ ملی تھی جہاں ایک بینکرمیں محصوررہ کراین فرینک نے The Diary of a Young Girl,لکھی ۔جسے اوٹوفرینک نے پندرہ سالہ بیٹی کی وفات کے دوبرس بعد ۱۹۴۷ء میں شائع کیا۔ایمسٹرڈم پہنچ کرولندیزیوں کی تاریخ اور این فرینک کایادآنا فطری بات تھی لیکن یہ تاریخ مجھ سے زیادہ حذیفہ کومعلوم تھی جس نے صبح ہوتے ہی این فرینک ہائوس جانے کا مطالبہ کیا ۔مجھے یادآیاکہ حذیفہ جب قاہرہ میں تھا تو ڈائری لکھاکرتاتھا اور اس کی ڈائری کا آغاز’’ ڈیرڈائری‘‘ کے کلمات سے ہوتاتھاوہ جوکچھ دوسروں کو نہیں بتاتاتھا اپنی ڈائری کو بتادیاکرتاتھا۔ایمسٹرڈم پہنچ کرمجھے جرمنی سے جلاوطن ہوکرہالینڈ آنے والوں کی تاریخ سے دلچسپی تھی تو حذیفہ کو این فرینک کے میوزیم سے۔دونوکی خواہش میں زیادہ بعدنہیں تھاکہ بالآخر دونومیں باپ بیٹے کا رشتہ تھااور یہ توآپ پڑھ ہی چکے ہیں کہ Where there is a father there is a son  چونکہ ایمسٹرڈم میں ہمارے پاس وقت کم تھااس لیے اعتدال کی راہ یہ نظرآئی کہ حذیفہ این فرینک کا میوزیم دیکھے اور میں یہودکا معبداور ان کاتاریخی میوزیم دیکھنے چلاجائوں ۔ چنانچہ روبینہ، حذیفہ کو لے کر این فرینک کے میوزیم روانہ ہوگئیں اور میں فاروق خالدصاحب کے ساتھ ایمسٹرڈم میںیہودکے معبداور ان کے تاریخی عجائب گھرکی جانب چلا۔فاروق خالدصاحب میرے صومعہ جانے کی خواہش پر متعجب ہورہے تھے ۔میںنے ان کے تعجب کو دورکرنے کے لیے قرآن سے مددلی جس نے بتایاہے کہ ہم نے ہدایت اور روشنی والی تورات نازل کی’’ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْہَا ہُدًی وَنُورٌ‘‘جس نے ـ’’ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللَّہِ کَثِیْراً ‘‘کے الفاظ میں صوامع، گرجوں،معابد اور مساجد میں اللہ کے بہ کثرت یادکیے جانے کا ذکرکیاہے ۔وہ اس بات پر حیران ہورہے تھے کہ ہم ایمسٹرڈم کے معبدیہودکے دروازے پرپہنچ گئے۔یہاں پہنچنے پر معلوم ہواکہ آج یوم السبت ہے۔ عبادت کادن ہونے کے باعث آج صومعہ زائرین کے لیے نہیں کھولاجاتاتاہم عجائب گھرکھلاتھا ہم نے صومعہ کو باہرہی سے دیکھااوریہودی عجائب گھرکی جانب بڑھ گئے۔ 

مصنف کے بارے میں