ریٹائرڈ فوجیوں والا مسئلہ

ریٹائرڈ فوجیوں والا مسئلہ

ہمارے ریٹائرڈ فوجیوں نے ایک پریس کانفرنس کرنے کی کوشش کی جسے اسلام آباد پریس کلب نے ہونے نہیں دیا۔ میں اسلام آباد پریس کلب پر ہمیشہ حیران ہوتا ہوں۔ اس کے عہدیدار عجیب وغریب قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے ایک سابق سیکرٹری نے مجھے ایک دھمکی آمیز خط بھی بھیجا تھا کیونکہ وہ اس کے ایک بلیک میلر ٹائپ رکن کی خواہش تھی۔ اب بھی اگر ریٹائرڈ فوجی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنا چاہتے ہیں تو انہیں روکنے کی کوئی منطق اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ اگر آپ پریس کلب میں بھی اپنا موقف نہیں بیان کرسکتے تو پھر کہاں کرسکتے ہیں۔ میں یقینی طور پر ریٹائرڈ فوجیوں کے موقف سے متفق نہیں ہوں مگر ان کے رائے رکھنے کے حق سے کیسے انکار ہو سکتا ہے ،کیا ہم صرف اس کو بات کرنے کی اجازت دیں گے اور صرف اس کی بات سنیں گے جس سے ہم متفق ہوں گے، کیا ہم اختلاف کرنے والے بات سن کر اسے منطق اور دلیل کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت سے عاری ہوچکے ہیں۔ یقینی طور پر پریس کلبوں کو اس قسم کی حرکتوں سے گریز کرنا چاہئے کہ ہمارے پاس ہائیڈ پارکس نہیں ہیں، ہمارے پاس پریس کلب ہی ہیں جو آزادی اظہار رائے کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ایسے روئیے اپنے پروفیشن سے غداری ہیں، اپنے نظرئیے سے غداری ہیں۔

میرے اصل مخاطب پریس کلب والے نہیں بلکہ وہ ریٹائرڈ فوجی ہیں جو پاک فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔ یقینی طور پر وہ فیصلہ ساز اور تجربہ کار لوگ ہیں مگر ان کی فیصلہ سازی اور تجربہ کاری کا بہرحال سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، ان کا فیلڈ آف ایکسپیرینس دفاع اوراس سے جڑے معاملات رہے ہیں۔ میں بہت احترام سے عرض کروں گا کہ اگر وہ سیاست پر بات کرنا چاہتے ہیں توپھرانہیں پاک فوج کی پہچان اور اس میں لئے ہوئے مقام کو ایک طرف رکھنا ہو گا اور اپنے سیاسی مقام تجربے اور مقام کی بنیاد پر ہی اہمیت حاصل کرنا ہوگی۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ وہ پاک فوج سے تعلق اور خدمات کو بنیاد بنا کے، بغیر کسی شرمندگی اور پشیمانی کے، فرماتے ہیں کہ وہ فوری انتخابات کا مطالبہ لے کر پاک فوج کے سربراہ جناب قمر جاوید باجواہ کے پاس گئے تھے۔ یہ مطالبہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا مطالبہ ہے جو پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ، اتحادیوں کے ساتھ چھوڑنے اوراپنے ارکان کے عدم اعتماد کے باعث، کھو بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس حیثیت میں ایک سیاسی مطالبہ لے کر آرمی چیف کے پاس جاتے ہیں۔ کیا ایک فوجی افسر یا ریٹائرڈ فوجی افسر کا یہ منصب ہے اور کیا یہ اسے زیب دیتا ہے کہ وہ سیاسی مطالبات لے کر آرمی چیف سے ملے۔ جب ہماری مسلح افواج اس عزم کا بار بار اعادہ کررہی ہیں کہ وہ سیاست سے بالاتر ہیں اور پوری قوم کے اعتماد کی حامل ہیں تو پھر انہیں ایسی شخصیات کا احتساب کرنا چاہئے جو ان کے اس دعوے اور تاثر کی نفی کریں۔ کیا یہ مطالبہ غلط ہے کہ اگر وہ ریٹائرڈ افسران پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو واقعی ملک کے لئے بہترین سمجھتے ہیں اور اب تک کے تاثر کے مطابق ان کی فیملیز عمران خان کے کرزما میں ابھی تک پھنسی ہوئی ہیںا ور انہیں سیاست میں مداخلت کے لئے دھکے دیتی ہیں تو وہ پاک فوج سے تعلق کا پلیٹ فارم اس کے لئے استعمال نہ کریں، اپنی سیاسی گاڑی کو جناب عمران خان کے سیاسی بس سٹینڈ پر لے جائیں اور دیکھیں کہ کتنی سواریاں اٹھاتے ہیں۔

ریٹائرڈ فوجیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف نے مبینہ طور پر ان سے وعدہ کیا کہ وہ نوے روز میں انتخابات کروائیں گے۔ اس پر سوال یہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ اصولی اور کتابی طور پر ایسا وعدہ کیسے کر سکتے ہیں اور اگر یہ کوئی آف دی ریکارڈ ملاقات اورگپ شپ تھی تو پھر اس کو آن دی ریکارڈ لا کر آرمی چیف کو فریق کیوں بنایا جا رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف سمیت سب کو رائے رکھنے کا حق ہے مگر جب آپ ایک ذمے دار عہدے پر ہوتے ہیں تو پھر آپ کی رائے بھی اتنی ہی اہم ہوجاتی ہے۔ ریٹائرڈ فوجیوں کا یہ دعویٰ موجودہ حکومت، جو کہ تین بڑی اور اہم سیاسی جماعتوں کا مرکب ہے اور پاکستان کے بدترین سیاسی حالات میں بھی ان جماعتوں نے اپنے وجود اور کردار کو برقرار رکھنے کی صلاحیت دکھائی ہے یعنی ان کے بغیر آپ پاکستان کو چلانے کاتصور بھی نہیں کرسکتے چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، میں دہرا دیتا ہوں کہ ریٹائرڈ فوجیوں کا یہ دعویٰ موجودہ حکومت اور پاک فوج کے درمیان خلیج پیدا کرسکتا ہے حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ وزیراعظم اس حوالے سے انتہائی صبر ، تحمل اور تدبر والے ہیں مگر دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے پیچھے جو لوگ موجود ہیں وہ معاملات کو شہباز شریف کی نظر سے نہیں دیکھتے۔

ہمارے بعض دوستوں کا یہ بھی شکوہ ہے کہ وہ ریٹائرڈ فوجیوں سے بات کرتے ہوئے ہمارے صحافیوں نے پروفیشنل ازم کامظاہرہ نہیں کیا اور یکطرفہ جارحانہ رپورٹنگ کی ۔ اعتراض یہ بھی ہے کہ انہوں نے وہ سوالات کئے جو اس موقع محل کی مناسبت سے میل نہیں کھاتے تھے یعنی ان کا کوئی سیاق و سباق نہیں تھا۔ میں اس پر بھی ففٹی ففٹی رائے رکھتا ہوں کہ صحافیوں کو موضوع پر رہنا چاہئے مگر اس ایشو کی بنیاد کچھ اور ہے کہ وہ جن ریٹائرڈ فیصلہ ساز لوگوں کا سامنا کر رہے تھے ان کے لئے ان کے پاس عشروں پر محیط واقعات کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ یہ ریٹائرڈ لوگ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں اور اپنے فیصلوں کو قومی مفاد کی بہترین تشریح مگر ایشو یہ ہے یہ لوگ کبھی ان پر سوالوں کے جواب دینے کے لئے دستیاب نہیں ہوتے۔ یہ کسی اور ہی دنیا کے مکین ہوتے ہیں جہاں سوالات پوچھنے والے صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے اور اگر کوئی ان کے در پر حاضر ہو کے چائے پی لیتا ہے تو اس کی بنیاد ی خوبی ہی خوشامد ہوتی ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ ان سے سوالات اسی موقعے پر ہوں گے جب یہ دستیاب ہوں گے اور یہ دستیاب اسی وقت ہوں گے جب یہ خود سیاسی ایجنڈا لے کر پریس کلبوں کار خ کریں گے تو انہیں اندازہ ہونا چاہئے کہ سیاستدان تو تمام سوالوں کے جوابات کے لئے موجود ہوتے ہیں چاہے آپ ان کے جوابات سے اتفاق کریں یا اختلاف۔ سو یہ جب منظر عام پر آئیں گے تو انہیں اندازہ ہو گا کہ سوالوں کے جواب دینا کتنا مشکل کام ہوتا ہے جسے وہ سیاستدانوں کو روزانہ کرتے دیکھتے ہیں تو بہت آسان لگتا ہے۔ان سوالوں پر آپ صحافیوں کے جنازے اٹھنے کی باتیں کریں تو انتہائی نامناسب ہی نہیں بلکہ اس پر قانونی کارروائی بھی ضروری ہے۔

سو، اپنے ریٹائرڈ فوجیوں سے انتہائی ادب سے عرض کرنا ہے کہ اگر انہوں نے سیاست کرنی ہے تو فوج کا پلیٹ فارم اور پہچان استعمال نہ کریں، اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کو جوائن کریں اور دھڑلے سے اس کے موقف کی حفاظت، ترویج اور تشریح کریں اور پھر جب آپ سیاسی ایجنڈا لے کر میدان میں نکلیں تو اپنے اندر اتنا حوصلہ پیدا کریں کہ سوالوں کے جواب دے سکیں، سوالوں کے جواب دھمکیاں نہیں ہوتے، بدتمیزی نہیں ہوتی۔ اگر آپ اچھے جواب دیں گے تو ہم آپ کے جوابات کو سراہیں گے، آپ کی خدمات کی تعریف کریں گے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ اب تک سابق جرنیلوں کی سیاسی میدان میں پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے اس سے گریز ہی کریں گے لہٰذا گولف کھیلے یا اس سے ملتا جلتا کچھ اور کھیل، یہ سیاست ماجھوں گاموں کا کام ہے، انہی کے لئے رہنے دیجئے، یہ فیلڈ آپ کے لئے قطعی طور پر ناموزوں ہے۔

مصنف کے بارے میں