فوجی تنصیبات پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، سانحہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو سزا دی جائے: جہانگیر ترین، استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان

فوجی تنصیبات پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، سانحہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو سزا دی جائے: جہانگیر ترین، استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف سے علیحدہ ہونے والے رہنماؤں نے جہانگیر ترین کی قیادت میں ’’استحکام پاکستان پارٹی‘‘ بنالی ہے۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا پی ٹی آئی کا جو منشور تھا اب وہ اس پر نہیں چل رہی تھی۔ فوجی تنصیبات پر حملوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈ کو سزا نہیں ملی تو سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر حملے بھی درست سمجھے جائیں گے۔ 

لاہور میں تحریک انصاف کو خیبر باد کہنے والے رہنماؤں کے ساتھ نیوز کانفرنس میں اپنی نئی سیاسی جماعت ’’استحکام پاکستان پارٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کرتے انہوں نے کہاکہ  آنے والے دنوں میں حقائق سامنے آجائیں گے کہ پارٹی کو مضبوط بنانے میں کیا کچھ کیا، پاکستان میں اصلاحات لانا ہمارا بنیادی منشور تھا، بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا جس سے بد دلی پھیلنے لگی۔جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات نے پاکستان کی سیاست کو تبدیل کر دیا  ہے، 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو انجام تک نہ پہنچایا تو پھر سیاسی مخالفین کےگھروں پر حملے بھی جائز سمجھےجائیں گے، کوئی بھی معاشرہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا۔

 تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ عوام کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں، ہم مل کر ملک کو اس دلدل سے نکالنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کو ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو مل کر ملک کو آگے بڑھائے۔

 جہانگیر ترین سے  پہلے  علیم خان نے پریس کانفرنس میں کہا آج پاکستان جس صورتحال سے گزر رہا ہے اس سے تمام پاکستانی پریشان ہیں، ملکی حالات سے فکر مند تھے، ہم نے ایک الگ پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا  اپنے بڑے بھائی جہانگیر خان ترین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ہم سب کو اکھٹا کیا، ہم نے پچھلے 11، 12 سال ایک ہی پلیٹ فارم پر لگائے ہیں، ہم سمجھتے ہیں پاکستان کے مسائل کا حل پاکستان کو مستحکم بنانے میں ہے۔ انتشار  پاکستان کو کھوکھلا کررہا ہے، ہم نے اس انتشار کو ختم کرنا ہے، ہم نے ایسا مستحکم پاکستان بنانا ہے جس میں پارلیمان، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہوں۔


علیم خان نے کہا کہ ہم سب نے بیٹھ کر سب دوستوں سےمشاورت کی ۔ملک جن حالات سے گزر رہا ہےسب پاکستانی پریشان ہیں۔ 9 مئی کے بعد جو واقعات ہوئے اس کے بعد ہر درد دل پاکستانی نے محسوس کیا ہم اکٹھے ہوں۔ جہانگیرترین نے سب کو اکٹھا کرنے میں بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔ انتشار نے ملک کوتیزی سے پیچھے دھکیلاہم نے ملک کو مستحکم کرنا ہے جس میں سب ادارے ایک پیج پر ہوں۔ہمیں خوشحال پاکستان کا خواب دکھایاگیا۔ 

مصنف کے بارے میں