سعودی عرب میں ڈرائیونگ کی تربیت کے لیے ٹریننگ سینٹرز پرخواتین کا رش

سعودی عرب میں ڈرائیونگ کی تربیت کے لیے ٹریننگ سینٹرز پرخواتین کا رش

سعودی عرب میں گذشتہ برس خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک خصوصی فرمان کے تحت خواتین کی ڈرائیونگ پرعاید پابندی اٹھانے کا اعلان کیا تو اس کا ملکی اور عالمی سطح پر خیر مقدم کیا گیا۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد خواتین نے ڈرائیونگ سیٹوں پربیٹھنا اور گاڑی چلانے کی تربیت حاصل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودیہ میں خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے کے لیے قائم کردہ ڈرائیونگ سینٹرز پر کافی رش ہے۔

سعودی شہر جدہ کی ایک مقامی خاتون فاطمہ سالم نے بھی لاکھوں دیگرخواتین کی طرح ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔ اس درخواست کی روشنی میں رواں سال جون میں اسے بھی گاڑی چلانے کی اجازت مل سکتی ہے۔تیس سالہ فاطمہ اس وقت ایم اے کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں قدرے پریشان ہوں مگر مجھے ہے کہ میں جلد ہی گاڑی چلانے فن سے مکمل طورپر آگاہ ہوجاؤں گی۔

کار ریس کے مقابلوں میں حصہ لینے والی اطالوی خاتون فرانسیسکا بارڈینی کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ کے لیے چند احتیاطیں لازم ہیں۔ اپنی اعصاب کو مکمل طورپر ڈھیلا چھوڑیں، یہ ذہن میں رکھیں کہ کیمرے آپ کو دیکھ رہےہیں۔ سیلٹ بیلٹ ضرور باندھیں۔ انہوں نے سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے میں ان کی مدد شروع کی ہے۔ فاطمہ سالم بھی انہی سے ڈرائیونگ سیکھ رہی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے گذژتہ برس شاہی فرمان میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عاید پابندی اٹھا دی تھی۔

سعود عرب میں خواتین کے حقوق اور ان کی آزادیوں کے حوالے سے اصلاحات کے پیچھے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے نہ صرف ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دلوایا بلکہ سعودی عرب میں موسیقی کی محافل منعقد کرنے،کھیل کے میدانوں میں میچ دیکھنے، سینما قائم کرنے اور ان میں جانے کی اجازت دی ہے۔ ان اقدامات سے سعودی عرب میں غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے امکانات اور معاشرے میں پائی جانے والی گھٹن ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کرنے والی ایک 18 سالہ طالبہ سارہ غوث کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا عجیب سا لگتا ہے کیونکہ میں آج تک اس سیٹ پر کبھی نہیں بیٹھی۔ اب میں تیزی کےساتھ چیزوں کو سمجھنے لگی ہوں۔ میں گاڑی چلانا اور ہرطرح کی پابندیوں سےآزاد ہونا چاہتی ہوں۔کاریں تیار کرنے والی عالمی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے سے ان کمپنیوں کو بھی بےپناہ فائدہ ہوگا کیونکہ سعودیہ کہ 20 ملین آبادی میں نصف خواتین ہیں۔

ٹیگز