حکومت کے پاس چیئرمین سینیٹ کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے، مریم نواز

حکومت کے پاس چیئرمین سینیٹ کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے، مریم نواز
کیپشن:   حکومت کے پاس چیئرمین سینیٹ کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے، مریم نواز سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ قوم چیئرمین سینیٹ انتخاب کے لیے شو آف ہینڈز کا انتظار کر رہی ہے اور صادق سنجرانی کی جیت کا مطلب انتخاب میں پیسہ چلا اور حکومت بتائے چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار کس بنیاد پر کھڑا کیا ہے اور چیئرمین سینیٹ کے لیے حکومت کے پاس عددی اکثریت نہیں۔

پی ڈی ایم رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے الیکشن کے بعد سینیٹ میں پیسے چلنے کے بھاشن سنیں جبکہ اب قوم انتظار کر رہی ہے کہ کب اوپن بیلٹ سے الیکشن ہوگا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس چیئرمین سینیٹ کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے اور حکومت نے کس بنیاد پراپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔ حکومت کے امیدوار کے کامیاب ہونے کی وجوہات پیسے سے خریدوفروخت ہمارے لوگوں کو توڑا جائے گا اور فون کالز بھی لوگوں کو آنا شروع ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 کےبعد پنجاب میں حکومت بنانا ن لیگ کا حق تھا لیکن اب پنجاب میں تبدیلی کے لیے پی ڈی ایم مل کر غور کرے گی۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ہم سے رابطے میں ہیں۔ 2018 میں بدترین دھاندلی کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ ن جیت گئی۔

اس سے قبل پی ڈی ایم رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا یوسف رضا گیلانی کو چیئر مین سینیٹ کیلئے امیدوار  نامزد کیا  ہے اور ڈپٹی چیئر مین کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا اور کمیٹی میں طاہر بزنجو، راجہ پرویز اشرف، حافظ عبدالکریم شامل ہوں گے، میاں افتخار، جہانزیب جمالدینی بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا کلچر ہماری اقدار کی عکاسی نہیں کرتا کیونکہ پی ٹی آئی قیادت نے کارکنوں کی جو تربیت کی وہ سڑکوں پر نظر آئی جبکہ (ن) لیگی رہنماؤں پر پی ٹی آئی کےغنڈوں نے حملہ کیا اور مریم اورنگزیب کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

 پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن نے بتایا کہ 26 مارچ کو لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا اور 26 مارچ کو چل کر 30 مارچ تک قافلے منزل پر پہنچنا شروع ہو جائیں گے جبکہ اسلام آباد میں قیام کی حکمت عملی پر 15 مارچ کو دوبارہ غور کیا جائے گا۔