پانی اللہ کی نعمت، ضائع مت کریں: دنیا کے کئی ممالک میں پانی مہنگا، کولڈ ڈرنک سستی

پانی اللہ کی نعمت، ضائع مت کریں: دنیا کے کئی ممالک میں پانی مہنگا، کولڈ ڈرنک سستی

نیویارک:پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اسے ضائع مت کریں“ اور کئی تحقیقاتی ادارے اپنی رپورٹس میں کہہ چکے ہیں کہ اگر دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو اس کی وجہ پانی ہی ہوگا، جبکہ اس وقت بھی دنیا کے کئی ممالک کے درمیان پانی کے حوالے سے تنازعات جاری ہیں۔ویسے تو کرہ ارض پر خشک زمین سے زیادہ پانی ہے، مگر سائنس اور ممالک نے اتنی ترقی نہیں کی کہ وہ اس پانی کو ٹھیک طرح سے اپنے استعمال میں لاسکیں۔مختلف رپورٹس اور اندازوں کے مطابق اس وقت بھی دنیا میں 2 ارب انسان مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔


جبکہ کئی ممالک میں پانی کی قیمت عام افراد کی پہنچ سے بھی دور ہے۔امریکی محکمہ صحت کے ماتحت سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سائنس جنرل سی ڈی سی میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں پینے کا پانی کولڈ ڈرنک سے بھی مہنگا ہے۔رپورٹ کے مطابق حتیٰ کی کولڈ اور سافٹ ڈرنک کی تیاری میں چینی، کیمیکل اور دیگر مصنوعی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ ہونی چاہیئے، مگر اس کے باوجود اس کے مقابلے میں سادہ پانی زیادہ مہنگا ہے۔

امریکی سینٹر فار ڈیزیز نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک جیسے اداروں کے ڈیٹا سمیت کوکا کولا جیسی بڑی کولڈ ڈرنک کمپنیوں کے اعداد و شمار اور چارٹس کا جائزہ لیا، جس میں پتہ چلا کہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں سادہ پانی کی بوتل سافٹ ڈرنک سے زیادہ مہنگی ہے۔سروے کے بعد جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی اداروں اور کولڈ ڈرنک کمپنی کے 1990 سے 2016 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا۔ڈیٹا میں 40 امیر ترین اور زیادہ کمانے والے ممالک جب کہ 42 غریب، متوسط اور پسماندہ ممالک میں کولڈ ڈرنک اور پانی کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔متوسط اور غریب ممالک میں یوکرین، تھائی لینڈ، سربیا، پاکستان، ملائیشیا، جنوبی افریقا، انڈونیشیا، رومانیہ، فلپائن، روس، چین، سری لنکا، مصر، بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، میکسیکو اور برازیل سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

جب کہ امیر ترین ممالک میں امریکا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، جاپان، آئس لینڈ، آسٹریلیا، ناروے، فن لینڈ، کینیڈا، اسپین، پولینڈ، فرانس، جرمنی، قطر اور سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2016 تک 82 میں سے 47 ممالک میں پانی کی قیمتیں کم ہوئیں، جب کہ حیران کن طور پر 35 ممالک میں پانی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔سروے کے مطابق پاکستان اور بھارت سمیت متوسط اور کم آمدنی والے 42 ممالک میں 1990 سے 2016 تک کولڈ ڈرنک کی ایک لیٹر بوتل کی قیمت 0.66 سے 0.60 ڈالر رہی، جب کہ اسی عرصے کے دوران ان ممالک میں پانی کی ایک لیٹر بوتل کی قیمت 1.64 ڈالرز تک رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی عرصے کے دوران امیر ترین اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں کولڈ ڈرنک کی قیمت 1.03 اور پانی کی قیمت 1.48 ڈالر رہی۔رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں ہرسال پانی و کولڈ ڈرنک کی قیمتوں میں تبدیلی آتی رہی، حیران کن طور پر کچھ ممالک میں پانی کی قیمتوں میں اضافہ، جب کہ کچھ میں کمی ہوئی۔

رپورٹ میں یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ کس ملک میں پانی کی قیمت کس حساب سے بڑھی یا کم ہوئی اور نہ ہی ہر ملک کی الگ الگ تفصیل دی گئی۔رپورٹ میں دونوں گروپوں کے ممالک کی مجموعی طور پر بات کی گئی، پاکستان کا شمار متوسط آمدنی والے ممالک میں کیا گیا، اس گروپ میں چین اور بھارت سمیت ترکی جیسے ممالک کو بھی شامل کیا گیا۔متوسط اور کم آمدنی والے ممالک میں بھی پانی کی بوتل کی قیمت کولڈ ڈرنک سے زیادہ ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کس ملک میں پانی کی قیمت کولڈ ڈرنک کے مقابلے کتنی زیادہ ہے۔