دھشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مولانا فضل الرحمن

دھشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مولانا فضل الرحمن

نوشہرہ : جمعیت علماٗ اسلام ف کے مرکزی امیر کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں دینی و اسلامی قوتیں متحد ہوکر سیکولرزم کے خلاف موثر آواز بلندکرسکتی ہیں۔دھشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔مدارس اسلامیہ ملک کی نظریاتی اساس کی ضامن ہیں۔مدارس اسلامیہ کے خلاف سازش کا ہرسطح پرمقابلہ کیاجائیں گا۔پاکستان کے مسائل کا حل اسلامی نظام شریعت میں ہے۔اسلام میں فلاحی انسانیت کا مربوط پیکچ و نظام موجود ہے۔نظام زکوۃ اور نظام صدقات کو غریب و مفلس لوگوں تک پہنچائیں تو غربت اور مفلسی میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔سیاست میں مثبت و تعمیری تنقید کا رواج ختم ہوتاجارہا ہے۔ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے دینی و اسلامی قیادت ہی کردارسازی کرسکتی ہے۔پاکستان کی عوام غربت بے روزگاری اور لاقانیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے رہے گئے۔اسلام کے امن و بھائی چارہ کے پیغام کو مدارس و معمبرو مسجد سے بھلائیں گئے۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ کینٹ کے قریب تحسین القران حکیم آباد اور آمہ چلڈرن اکیڈمی کے یتیم یب بچوں حفاظ کی دستاربندی کی تقریب اور ورکرز تشکر کنونشن بسلسلہ صد سالہ عالمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعہ پر جمعیت علما ٗ اسلام ف خیبرپختونخوا کے امیر گل نصب خان،مولانا فضل علی حقانی،مولانا سجاع الملک اور قاری محمدعمرعلی نے خطاب کیا۔جمعیت علماٗ اسلام ف کے مرکزی امیر کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام امن بھائی چارہ اور محبت کا دین و مذہب ہے۔اسلام کا دھشت گردی اور شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ایک خاص طبقہ کی سوچ بن چکی ہے کہ ہر دھشت گردی کے واقعہ کو اسلام میں ڈھونڈا اور تلاش کیاجاتاہے۔بڑے بڑے واقعات میں کسی بھی مدرسہ اور دینی درسگاہ کاکوئی بھی طالبعلم ملوث نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دینی و اسلامی قوتوں کو متحد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کی نام نہاد غیرسرکاری تنظموں این جی اوز سے کئی زیادہ اسلامی اداروں نے غریبوں مفلسوں اور بے گھرلوگوں کی صحیح معنوں میں خدمت کی۔اسلام خدمت خلق اور خدمت انسانیت کا درس دیتاہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام شریعت ہی تمام مسائل کا حل ہے پاکستان کے مسائل اور بحرانوں کا حل اسلامی و دینی قوتوں کے پاس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں مثبت و تعمیری تنقید کا رواج ختم ہوتاجارہا ہے۔ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے دینی و اسلامی قیادت ہی کردارسازی کرسکتی ہے۔پاکستان کی عوام غربت بے روزگاری اور لاقانیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے رہے گئے۔