اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ عبوری طور پر معطل

اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ عبوری طور پر معطل
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ کی سینیٹر شپ عبوری طور پر معطل کر دی گئی۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ اے پی پی

اسلام آباد: عدالت نے اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما کی سینیٹر شپ عبوری طور پر معطل کر دی۔


سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نوازش پیرزادہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے سینیٹ انتخابات میں اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پیپلز پارٹی کی وارداتیں سندھ میں تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوفزدہ ہونیکی علامت ہے'

سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو 8 مئی کو طلب کیا تھا لیکن وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کہاں ہیں اسحاق ڈار؟ وہ کیوں نہیں آئے؟ انہیں ایک دن تو آنا ہی پڑے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خبروں میں تو اسحاق ڈار کو آتے جاتے دیکھتے ہیں وہ صحت مند ہیں اور یہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار کو آنا ہی پڑے گا،بتائیں وہ کس دن آئیں گے؟

عدالت نے طلب کیے جانے کے باوجود عدم پیشی پر سابق وزیر خزانہ کی سینیٹ کی رکنیت عبوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے گزشہ روز  اسحاق ڈار کے وکیل نے ان کی بیماری سے متعلق لندن نیورو سرجری پارٹنرشپ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خزانہ دل اور گردن کے مہروں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور آزمائشی بنیادوں پر ان کی فزیو تھراپی کی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانا غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ

رپورٹ میں جس پر کنسلٹنٹ نیورو سرجن رِچرڈ گولَن کے دستخط موجود تھے کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کو بائیں بازو اور سینے میں تکلیف کی شکایت ہوئی جس کے بعد ’ایم آئی آر‘ رپورٹ میں ان کی گردن کے مہروں میں سوزش سامنے آئی۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں