حکومت کا کے-الیکٹرک کی منتقلی کے لیے قانون میں ترمیم پر غور

حکومت کا کے-الیکٹرک کی منتقلی کے لیے قانون میں ترمیم پر غور
image by facebook

اسلام آباد:حکومت نے کے الیکٹرک کے موجودہ معاہدے میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ،مالی لین دین کے  فیصلے کے قانونی ڈھانچے میں تبدیلی کی جائے گی ،اس سلسلے میں نجکاری کمیشن نے حکومت کو تجاویز پیش کر دی ہیں ۔


 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کمیٹی اجلاس میں نجکاری کمیشن  کے فریم ورک پر غور کیا گیا ،ملکی ترقی کو ثابت کرنے کے لیے بیان بازی کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرنے پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا 

اس سلسلے میں وزیر نجکاری دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی پہلی نجکاری کے بعد کیا جانے والا خریدو فروخت کا معاہدہ، قانونی انتظامات کے تحت صرف ایک انتظامیہ کو کمپنی کے اثاثوں کی منتقلی کی اجازت دیتا تھاجس پر 10 سال قبل عمل ہوچکا ہے جب اسے ’ابراج کیپیٹل‘ نے خریدا تھا۔

اسی وجہ سے پچھلے ایس پی اے کو مکمل طور تبدیل کیا گیا ہے جس سے اثاثوں کی منتقلی کی مختلف راہیں ہموار ہوں گی، جس کے تحت نہ صرف کے الیکٹرک کی ابراج گروپ سے چین کی شنگھائی الیکٹرک کو منتقلی کی جائے گی بلکہ کوئی بھی مشکل پیش آنے کی صورت میں مستقبل کی تمام لین دین بھی اسی تناظر میں کی جائیں گی۔

تاہم وفاقی وزیرِ نجکاری نے تجویز کردہ فریم ورک کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے اسٹیک ہولڈرز، اس کے معاہدے کے قانونی، عدالتی اور مالی پہلوؤں پر غور کررہے ہیں جس کے بعد وہ اس بارے میں اپنی سفارشات پیش کریں گے۔

اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی ابراج گروپ سے شنگھائی الیکٹرک کو منتقلی کے پیچھے بہت سے مفادات وابستہ ہیں، ابراج گروپ ایک کاروباری گروپ تھا جس میں اس قسم کی سہولت کو سنبھالنے کی تکنیکی مہارت کی کمی تھی جبکہ انہوں نے پیداوار اور تقسیم کے نیٹ ورک کو اس طرح بہتر نہیں بنایا جس طرح بنانا چاہیے تھا۔

دوسری جانب شنگھائی الیکٹرک ایک بین الاقوامی توانائی کمپنی ہے جو توانائی کی عالمی پیداوار میں 10 فیصد حصہ شامل کرتی ہےجنہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے سال 2025 تک 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

یہ بھی پڑھیئے:

بلاول بھٹو نے 19 مئی کے جلسے کیلئےنئے مقام کا اعلان کر دیا 

دانیال عزیز کا مزید کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ شنگھائی الیکٹرک نے 2016 میں کے الیکٹرک کو ٹیک اوور کرنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے اب تک سیکیورٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ (این ایس سی) نہیں مل سکا حالانکہ یہی کمپنی پاکستان چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر میں شریک رہی ہے۔

واضح رہے مذکورہ سیکیورٹی کلیئرنس وفاقی کابینہ کی جانب سے دی جاتی ہے اور اس سلسلے میں کئی طرح کی دستاویزی کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کے الیکٹرک کے مسئلے کو سی سی ای کے ایجنڈے میں مسلسل شامل کر کے اس پر بات چیت کی جاتی رہی ہے لیکن تمام تر بات چیت کا محور بہترین ٹیرف فراہم کر کے کے الیکٹرک کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے۔

کے الیکٹرک کے مطابق وہ مرمتی کام کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی مکمل کرنے میں ناکام ہے جس کے متعلق سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر صارفین کو گاہے بگاہے آگاہی دی جاتے ہے ۔

ٹوئیٹر پر کے الیکٹرک کا پیغام: 

دوسری جانب عوام اپنے غصے کا اظہار سڑکوں پر کر رہے ہیں جبکہ مصروف افراد اپنے دل کی بھڑاس سوشل میڈیا پر ہی نکال لیتے ہیں ۔

ٹوئیٹر پر عوام کی جانب سے ٹوئیٹ کیا گیا پیغام :