نو ارب ڈالر کی منتقلی ، اسٹیٹ بینک نے عالمی بینک کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا

کراچی :اسٹیٹ بینک نے ملک سے نو ارب ڈالر کی منتقلی کی سختی سے تردید کر دی اور  کہا گیا ہے کہ 2016 میں ہی ایسے الزامات کی تردید کر دی ، عالمی بینک کی رپورٹس کو غیر مصدقہ قرار دیا گیا ہے ۔


تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ملک سے نو ارب ڈالر کی منتقلی کی سختی سے تردید کر دی اور  کہا گیا ہے کہ 2016 میں ہی ایسے الزامات کی تردید کر دی ، عالمی بینک کی رپورٹس کو غیر مصدقہ قرار دیا گیا ہے ۔

مزید پڑھیئے:

چین کی آن لائن شاپنگ کمپنی علی بابا نے دھماکہ کر دیا 

اسٹیٹ بینک نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ مرکزی بینک نے 2016میں ہی کہہ دیا تھا کہ اس طرح کی رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ، مرکزی بینک کے مطابق ورلڈ بینک نے غلط اندازوں پر رپورٹ تیار کی تھی۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ گراف جس میں پاکستان کا بھی زکر ہے :

بینک کی مائیگریشن اینڈ ریمی ٹینسز فیکٹ بک ہجرتوں کے اعداد و شمار پر تیار کی گئی تھی جس میں 1947کی ہجرت کے اعداد و شمار کو بھی بنیاد بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیئے:

چند لوگ نوجوان نسل کے ذہنوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں :آرمی چیف 

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کو یہاں کا شہری قرار دیا تھا، اس بنیاد پر مرکزی بینک نے اس رپورٹ کی مکمل تردید کی تھی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے ستمبر 2016 کے اعلامیے میں بتادیا تھا کہ مالی سال 2015-16 میں پاکستان سے صرف ایک لاکھ 16 ہزار ڈالر کی ترسیلات بھارت بھیجی گئی تھیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2016 میں بھارت سے پاکستان 3 لاکھ 29 ہزار ڈالر آئے تھے جبکہ پاکستان سے بھارت درآمدات 45 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل قومی احتساب بیورو چیئر مین جناب جسٹس جاوید اقبال نے میاں محمد نواز شریف ، سابق وزیر اعظم اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر بھارت 4.9بلین ڈالر رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھجوانے کی میڈیا رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے شکایت  کی جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں