سیاسی عدم استحکام کا تعلق معاشی  استحکام سے ہے، بلاول بھٹو

سیاسی عدم استحکام کا تعلق معاشی  استحکام سے ہے، بلاول بھٹو
Image Source: Bilawal Bhutto Twitter Account

اسلام آباد :بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ میثا ق جمہوریت کے تحت چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپوزیشن لیڈر ہوگا،پیپلزپارٹی کی حکومت نے میثاق جمہوریت کی خاطر چودھری نثارجیسے لیڈرکو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔


تفصیلات کے مطابق ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کوسمجھ لینا چاہیے کہ اب وہ اپوزیشن میں نہیں ،سیاسی عدم استحکام کا براہ راست تعلق معاشی  استحکام سے ہے ، سیاسی جنگ لڑنے سے حکومت تبدیل ہوجاتی ہے، سیاسی عدم استحکام حکومت کے مفاد میں نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام آج پس رہے ہیں کل وہ حکومت کا گریبان پکڑیں گے ،تبدیلی سرکارآنے کے بعد معاشی صورتحال بہتر ہوئی یا خراب عوام خود فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ میثا ق جمہوریت کے تحت چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپوزیشن لیڈر ہوگا،پیپلزپارٹی کی حکومت نے چودھری نثارجیسے لیڈرکو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ احتساب،انصاف کی بات کرنیوالی حکومت اپوزیشن لیڈر کو پی اے سی کا  چیئرمین بنانے سے کیوں بھاگ رہی ہے ؟ ن لیگ نے وضاحت کی ہے کہ چیئرمین پی اے سی کی تبدیلی کا حتمی فیصلہ نہیں ہو ا۔

بلاول نے کہا کہ حکومت ہمیں تاریخ کاسبق پڑھانے کے بجائے اپنی ایک سال کی کارکردگی بتائے، حکومت نے نہ ایک نوکری دی نہ بل پاس کیا نہ انقلابی اصلاحات لائے، پچھلے 10 سال کا رونا روکر عوام کو بے وقوف نہیں بنا یا جا سکتا ہے۔ ہم نیب قوانین میں اصلاحات کے ذریعے بلاتفریق احتساب چاہتے ہیں۔ 

اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی نے حکومت سے آئی ایم ایف کا معاہدہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ چیئرمین ایف بی آر ، گورنر اسٹیٹ بینک کواچانک ہٹاکرپسندیدہ بندے کو نہیں لگا سکتے،  اسٹیٹ بینک کے سربراہ کی مدت تین سال ہے ،ایف بی آر کے چیئرمین کی تقرری کا بھی طریقہ کارہے ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے سربراہ اچانک چلے جاتے ہیں ،آپ کو پتا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو بندہ جوکل تک آئی ایم ایف سے تنخواہ لے رہاہوتو شکوک تو  پیدا ہوں گے، ملکی معاشی معاملات پر آئی ایم ایف کی ٹیم آئی ایم ایف سے کیسے مذاکرات کرسکتی ہے؟  پیپلز پارٹی ایسے تما م اقدام کو چیلنج کرے گی۔