نیٹو کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

نیٹو کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

برسلز:امریکی ٹی وی کے مطابق آج (جمعرات کو )مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اس بات کا اعلان کرنے والا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے تربیتی مشن کا دائرہ بڑھاتے ہوئے وہ وہاں تین ہزار کے قریب مزید فوجی بھیجے گا۔ یہ بات اس اتحاد کے حکام کے حوالے سے بتائی گئی ۔

امریکا کی طرف سے افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد مغربی دفاعی اتحاد نیٹو بھی اس ملک میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ بات اس اتحاد کے حکام کے حوالے سے بتائی ہے۔

فوج اور ایئرفورس کے اہلکاروں کی تربیت کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے استعمال ہوں گے۔ اس کا مقصد امریکا کی طرف سے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی حکمت عملی میں تعاون بڑھانا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ڑینس اشٹولٹن برگ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ افغانستان میں جاری صورتحال میں بہتری ہو سکے، اور طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ میدان جنگ میں جیت نہیں سکتے۔

نیٹو اتحاد میں شریک ممالک کے وزرائے دفاع کا دو روزہ اجلاس برسلز میں شروع ہوگیا امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر وہ افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی تعیناتی کی توثیق کریں گے۔

ایک نیٹو کے اہلکار نے بتایا کہ ان فوجیوں کی تعیناتی کا عمل آئندہ برس یعنی 2018ءکے آغاز سے ہو گا۔ نیٹو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کے بیلی ہوچنسن کا کہنا ہے کہ امریکی ہدف طالبان عسکریت پسندوں کو یہ بتایا ہے کہ وہ فوجی جنگ میں جیت نہیں سکتے۔