ایم کیو ایم اور پی ایس پی نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی نے مل کر سیاست کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے صدر فاروق ستار اور پی ایس پی کے بانی مصطفیٰ کمال نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ 
کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کا مقصد کراچی اور سندھ میں ووٹ بینک کی تقسیم کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مل کر سندھ باالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کریں گے۔فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان، سندھ اور بالخصوص کراچی کئی مسائل میں گھرا ہوا ہے، کراچی میں کام کرنے والی جماعتوں نے محسوس کیا کہ ہمیں شہر کے مسائل کو حل کرنا ہے، پاکستان کوایک لیڈر شپ فراہم کرنا ہے، ہمیں صرف اداروں کے نہیں پاکستان کے مسائل بھی حل کرنے ہیں۔

سربراہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ کراچی 3 کروڑ سے زائد آبادی کا شہر ہے لیکن دیہی وڈیروں نے شہری علاقوں میں سیاسی قبضہ کیا اور ووٹ تقسیم ہونے کے تاثر کا فائدہ اٹھایا، مشترکہ سیاسی اتحاد کے ذریعے شہری اور دیہی سندھ میں ناجائز قبضے کا خاتمہ کریں گے۔

فاروق ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں بانی پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایک پارٹی کانام،ایک انتخابی نشان،ایک منشورپرجدوجہد کااعادہ کرتےہیں، فاروق بھائی کی باتوں کی توثیق کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ  فاروق بھائی سے آیندہ الیکشن میں تعاون پر6 ماہ سے سلسلہ چل رہا ہے۔


چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی تھی، ہے اور رہے گی اور اگر پی ایس پی کے نام پر سیاست کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ فاروق ستار اس پر اعتراض کریں اس لیے اب ہماری جو بھی شناخت ہو گی وہ ایم کیو ایم نہیں ہو گی۔مصطفی کمال نے کہا کہہم نے 3 مارچ 2016 کو اس لیے آواز اٹھائی کہ ایک شخص نشے میں دھت ہو کر لندن میں تقریر کرتا تھا اور یہاں پر ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی تھیں۔ مصفطیٰ کمال کا کہنا تھا کہ لندن میں بیٹھے شخص نے مہاجروں سے بڑا ظلم کیا، بانی ایم کیوایم کی تقریر کے بعد مہاجروں کی زندگی خراب ہوجاتی تھی۔

 

چیئرمین پی ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ فاروق بھائی اور ان کے رفقاءکی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے انسانوں اور کراچی کے رہنے والوں کے فائدے کو سامنے رکھا ہے، اسی وجہ سے اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس بات پر ضد نہیں کی کہ فاروق ستار سے بات نہیں ہوسکتی، ہم میڈیا کے ذریعے اس حوالے سے خبریں دیتے رہیں گے۔