روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متعلق قرارداد کی مخالفت کردی

روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متعلق قرارداد کی مخالفت کردی

ماسکو: روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی مینڈیٹ میں توسیع سے متعلق امریکا کی مجوزہ قرار داد کی مخالفت کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم کیمیائی حملوں کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں مگر ایک مختلف انداز میں ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ریابکوف کے اس بیان سے قبل روس نے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو بھی مسترد کردیا ہے۔ اس میں شامی حکومت پر تباہ کن زہریلی گیس کے حملے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
روس نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی تحقیقاتی ٹیم کے مینڈیٹ کی تجدید کے لیے قرار داد کو ویٹو کردیا تھا۔اب امریکا کی نئی مجوزہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ شام کو کیمیائی ہتھیار تیار نہیں کرنے چاہییں۔اس میں شام کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کیمیائی حملوں کی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کریں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی بین الاقوامی تنظیم نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ میکانزم قائم کیا تھا۔ نومبر 2015ءمیں سلامتی کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دی تھی اور 2016ءمیں اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی تھی۔ اس کی یہ مدت نومبر کے وسط میں ختم ہورہی ہے۔