اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں، وزیراعظم عمران خان

اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں، وزیراعظم عمران خان
حکومتی کمیٹی کی رہبر کمیٹی کی شرائط پر وزیراعظم سے مشاورت کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی 5 ملاقاتوں کی تفصیلات وزیراعظم کو بتائیں۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کے تعطل کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات جاری ہے جس میں رہبر کمیٹی سے ہونے والی ملاقاتوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی جا رہی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومتی کمیٹی کی رہبر کمیٹی کی شرائط پر وزیراعظم سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے بار بار استعفے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے جب تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن اراکین نے شور شرابا کیا جس پر پرویز خٹک نے کہا کہ آج دل سے بولنا چاہتا ہوں، کیا آپ لوگ سنیں گے، سن لیں یہ تماشہ نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ والے صبر کریں، ابھی بہت دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے گا، جتنا بیٹھنا ہے بیٹھو لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا۔ اگر مولانا کہتے ہیں جرگہ ٹائم پاس کے لیے ہے تو ہم بھی آپ سے ٹائم پاس کررہے ہیں۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اگر جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو آئیں ٹیبل پر بیٹھیں۔