ایسا لگتا ہے کہ اب اور کہیں نکلے گا……

ایسا لگتا ہے کہ اب اور کہیں نکلے گا……

سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لکھا اور اس مضمون کا مترجم نے جو ترجمہ کیا اسے پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کہاں ہم مسلمان جو ارض و آسمان میں اعلیٰ و ارفع تصور کیے جاتے ہیں اور کہاں یہ غیر مسلم جن کے لیے جہنم بنائی گئی ہے۔ان کا کردار کیسا ہے؟اور آج ہم مسلمانوں کا کردار کیسا ہے۔اس مضمون میں اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دو دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔

پہلا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے آئرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا۔ امتحان کی فیس 309 ڈالر تھی۔ میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے۔ اس میں اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا۔ ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ ”آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کرا دیے تھے، ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جارہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے“حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے!مگر انہوں نے اس بات کی پروا کیے بغیر انہوں نے اپنے خرپے پر چیک بھیجا۔

دوسرا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے گزرتا تھا، اس راستے میں ایک عورت کی دکان تھی۔ جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی 

کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھا ہے جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے۔مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا؟اس نے کہا: نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟

اس نے جواب دیا کہ نائیجیریا، جہاں سے یہ کاکاوکا ہمارے ملک میں آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے۔ زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا بیچ رہے ہیں۔میں نے کہا، پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہوجائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے۔ میں نے کہا دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو۔ کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا۔اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا: کیا تم کوئی لٹیرے ہو؟مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا۔لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟یہ کون سا اخلاق ہے؟دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا۔

یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے۔

یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن؟اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں؟

جگاڑ میں حلال حرام تک کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں۔اب ملک کی حالت پر ایک نظر ڈالیے۔

ایک ٹرک ڈرائیوراپنے شاگرد کے ساتھ ایک ہوٹل پر رکا کھانا کھایا اور دو چرس کے سگریٹ پئے اور شاگرد کو بولا کہ چل تو بھی کیا یاد کرے گا آج ٹرک تم چلاو، لیکن ٹرک چلانے سے پہلے ٹائر پانی چیک کر لو۔شاگرد بہت خوش ہوا کہ آج ٹرک چلاؤں گا، اس نے جلدی سے ریڈی ایٹر کا پانی چیک کیا، ٹائر کی طرف آیا تو دیکھا ٹائر پنکچر تھا، اس نے استاد کو ٹائر کے بارے میں بتایا، استاد نے کہا جلدی سے بڑا جیک لگاؤ اور ٹائر بدل دو اتنی دیر میں استاد نے دو اور چرس کے سگریٹ پئے، جب ٹائر بدل دیئے تو استاد نے شاگرد کو کہا کہ میں اب تھوڑی دیر سونے لگا ہوں تم ٹرک چلانا شروع کر دو کنڈیکٹرکچھ جوش میں اورکچھ چرس کے نشے میں سپیڈ دیئے جا رہا تھا، کافی دیر بعد جب استاد کی آنکھ کھلی تو اس نے کنڈیکٹر سے پوچھا۔ہاں بھائی کنڈکٹر کہاں پہنچے کنڈکٹر بولا۔ استاد جی جگہ کا تو نہیں پتا لیکن میں کافی سپیڈ و سپیڈ جا رہا ہوں۔استاد بولا۔ اچھا تم گاڑی سائیڈ پر روکو میں خود چلاتا ہوں۔ شاگرد نے ایکسیلیٹر سے پاؤں ہٹایا اور گاڑی روک دی، استاد نیچے اترا تو دیکھا سامنے ایک ہوٹل ہے۔استاد نے ہوٹل والے سے پوچھا کہ بھائی یہ کونسی جگہ ہے۔ہوٹل والا حیران و پریشان ان دونوں کو دیکھنے لگا اور بولا جناب آپ تو اسی جگہ پر ہیں جہاں سے آپ نے کھانا کھایا، ہم تو سمجھے شاید ٹرک میں کوئی خرابی ہے اس لئے ٹرک جیک پر لگا کر آپ ایکسیلیٹر دیئے جا رہے ہیں۔ 

یہی حال 74 سال سے ہمارے ملک کا ہے، اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر یہ ہوس کے پجاری حکمران اور پاکستان کو ایسے ہی چلا رہے ہیں، نہ پاکستان آگے جاتا ہے اور نہ ہی ان جیسے ناکام ترین حکمرانوں سے چھٹکارا ملتا ہے اور ہم دین و دنیا سے کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں۔بقول جدید لب و لہجے کے شاعر رضا اللہ حیدر

ایسا لگتا ہے کہ اب اور کہیں نکلے گا

آج کی رات یہاں چاند نہیں نکلے گا

لوگ سونے سے بنے دفن کیے ہاتھوں سے

یہ خزانہ بھی کہاں زیرِ زمیں نکلے گا

مصنف کے بارے میں