جلال آباد میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے دوبارہ کام شروع کر دیا

جلال آباد میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے دوبارہ کام شروع کر دیا

image by facebook

کابل: افغانستان کے شہر جلال آباد میں قائم پاکستان کا قونصل خانے نے آج سے دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ 40 دن کی بندش کے بعد آج سے کھول دیا گیا ہے اور ویزے کے حصول کے لیے پہلے ہی دن لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ 30 اگست کو بند کیے گئے قونصل خانے کو سیکیورٹی کی فراہمی کی ضمانت پر دوبارہ کھولا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل جلال آباد قونصل خانے کے دوبارہ کھولنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان حکومت کی ویانا کنونشن کے تحت سیکیورٹی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد آج جلال آباد میں پاکستان کے قونصل خانے کو سے ویزے کے اجراء کا آغاز کردیا گیا ہے۔

جلال آباد قونصل خانے کو افغانستان کے صوبے ننگرہار کے گورنر حیات اللہ حیات کی بے جا مداخلت، عدم تحفظ اور ویانا کنونشن 1963 کی صریحاً خلاف ورزی پر بند کیا گیا تھا۔ پاکستانی سفارت خانے نے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پاکستانی قونصل خانے کو حاصل سفارتی مراعات کی پاسداری کا مطالبہ کیا تھا۔

ویانا کنونشن کے آرٹیکل 31 کے تحت قونصل خانے کی چار دیواری کو ایک خاص حیثیت حاصل ہوتی ہے اور اس کی حدود میں مہمان ملک کے حکام بغیر قونصل خانے کے سربراہ کی پیشگی اجازت کے داخل نہیں ہو سکتے لیکن گورنر حیات اللہ حیات بلا اجازت قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے۔

افغان ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق گورنر حیات اللہ حیات نے پاکستان کے قونصل خانے کے عملے کو ویزا جاری کرنے کے اپنے طریقے کار میں تبدیلی کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ویزے حاصل کرنے میں افغان شہریوں کو دقت پیش آ رہی ہے۔