حنیف عباسی تندرست ہیں، ہسپتال نہیں جیل بھیجیں: رپورٹ تیار

حنیف عباسی تندرست ہیں، ہسپتال نہیں جیل بھیجیں: رپورٹ تیار

image by facebook

لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی تندرست ہیں، اسپتال نہیں جیل بھجیں، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے حنیف عباسی کی رپورٹ تیار کرلی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی کو جیل میں رکھا جائے ہسپتال لے جانے کی ضرورت نہیں ہے، ایم ایس پی آئی سی نے رپورٹ سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کو بھجوادی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دل کے عارضے کے لیے ادویات کا استعمال جاری رکھیں، حنیف عباسی کا بلڈپریشر بھی نارمل ہے، وہ پہلے سے دی گئی ادویات کا استعمال جاری رکھیں جبکہ سروسز اسپتال کے ڈاکٹروں کا پینل آج حنیف عباسی کا طبی معائنہ کرے گا۔

واضح رہے کہ حنیف عباسی کو 21 جولائی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد سے وہ جیل میں قید تھے۔

راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت کے جج سردار اکرم نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا تھا جس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا جبکہ دیگر ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم کی رہائی کے موقع پرجیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے نوازشریف ، شہبازشریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے ساتھ حنیف عباسی کی تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہوئی تھی۔

حنیف عباسی کی تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک شوکت فیروز اور اے آئی جی ملک سرفراز نواز پرمشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

بعدازاں انکوائری کمیٹی کی تجویز پرحنیف عباسی کو اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

معائنہ کرے گا۔

واضح رہے کہ حنیف عباسی کو 21 جولائی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد سے وہ جیل میں قید تھے۔

راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت کے جج سردار اکرم نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا تھا جس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا جبکہ دیگر ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم کی رہائی کے موقع پرجیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے نوازشریف ، شہبازشریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے ساتھ حنیف عباسی کی تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہوئی تھی۔

حنیف عباسی کی تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک شوکت فیروز اور اے آئی جی ملک سرفراز نواز پرمشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

بعدازاں انکوائری کمیٹی کی تجویز پرحنیف عباسی کو اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔