متحدہ اپوزیشن کاآخری اجلاس ،آزادی مار چ سے متعلق اہم فیصلہ

متحدہ اپوزیشن کاآخری اجلاس ،آزادی مار چ سے متعلق اہم فیصلہ
Image Source: File Photo

اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ اور ملک میں فوری نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں فوج کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے، سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں ، اپوزیشن متحد ہے اور مستقبل میں بھی متحد رہے گی،حکومت تمام قیمتی اثاثوں کو بیچنا شروع ہوچکی ہے، خطرہ ہے کہیں یہ ملک ہی نہ بیچ دے ۔


 

ان خیالات کا اظہار جے یو آئی (ف) کے اکرم خان درانی ، مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال، پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر ، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین نے رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر طاہر بزنجو اور اویس نورانی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ رہبر کمیٹی کا اجلاس تقریبا اڑھائی گھنٹے جاری رہا۔

 

جے یو آئی (ف) کے رہنماءاکرم خان درانی نے کہا کہ حکومت کے خلاف تحریک کے حوالے سے بہت گفت و شنید ہوئی اور آخری اجلاس میں اتفاق ہوا کہ اسے مزید مہلت نہیں دینی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو تباہ کیا، ملک کو بھکاری اور لوگوں کو بے روز گار کردیا ہے ،پورے ملک کے کارخانے بند کردیئے گئے، تاجران بھی ہڑتال پر ہیں ، مزدور طبقے کو کوئی روزگار نہیں مل رہا ۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 12 روز سے ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، ایمرجنسی کے علاوہ کوئی ہسپتال کھلا نہیں ہے ،22 ہزار فاٹا اساتذہ سراپا احتجاج، واپڈا والے بھی ہڑتال کے قریب آئے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھی جس طرح پابندی لگائی ہوئی ہے وہ ملکی تاریخ میں نہیں دیکھی،یہ اداروں کو ایک ایک کرکے بیچنے کے بعد کشمیر اور ملک کو بھی بیچ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام قیمتی اثاثوں کو حکومت بیچنا شروع ہوچکی ہے، خطرہ ہے کہیں اب یہ ملک ہی نہ بیچ دے ، اپوزیشن ہر حوالے سے حکومت کے خلاف متحد ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم فوری استعفیٰ دیں اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں جن میں فوج کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے پرانا سیاستدان کوئی نہیں،مولانا کو مذہبی کارڈ کی ضرورت ہی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین پاکستان کے تمام دفعات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں ،آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے، آزادی مارچ بھی 15 ملین مارچ کی طرح پرامن ہوگا ۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کرینگے، ماضی میں پی ٹی وی، پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا ،پولیس افسران کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی پٹائی اور سپریم کورٹ، پارلیمنٹ کا راستہ روکا گیا تھا ،ایک جمہوری حکومت نے پی ٹی آئی احتجاج میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کی ،یہاں پر وفاقی وزراءکہتے ہیں اس طرح بٹھائینگے کوئی اٹھائےگا نہیں، یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے ۔