شریف فیملی اور ڈار کو 14، 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، ذرائع

شریف فیملی اور ڈار کو 14، 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، ذرائع

اسلام آباد: پاناما کیس کا تیسرا اور حتمی مرحلہ شروع ہو گیا۔ نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، بیٹی مریم نواز، دونوں بیٹوں حسن، حسین اور اسحاق ڈار کے خلاف چار ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دیدی۔ الزامات ثابت ہونے پر نواز شریف، ان کے اہلخانہ اور اسحاق ڈار کو 14، 14 سال قید اور تاحیات نااہلی کی سزا ہو سکتی ہے۔


نیب نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز میں جو دفعات لگائی ہیں ان کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف 3 ریفرنسز میں دفعہ 18 جی جس کی سب سیکشن 9 اے لگائی گئی ہے۔ نیب آرڈیننس سیکشن 9 اے غیر قانونی رقوم اور تحائف کی ترسیل سے متعلق ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب لاہور اور راولپنڈی نے دفعہ 9 اے کی تمام چودہ ذیلی دفعات کو شامل کیا۔ سیکشن 9 اے کی دفعات کی سزا 14 سال قید ہے۔ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14 سی لگائی گئی ہے۔ سیکشن 14 سی آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے اور نیب کی دفعہ 14 سی کی سزا 14 سال مقرر ہے۔

اس کے علاوہ عوامی نمائندوں کے لیے سزا کے بعد عمر بھر کی نااہلی ہوتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز پر جعلی دستاویزات دینے پرالگ سے شیڈول دو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ مریم نواز کے خلاف تحقیقات کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 31 اے بھی شامل ہے۔ مریم نواز کو اس جرم میں مزید 3 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں