ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے امن مذاکرات کو منسوخ کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے امن مذاکرات کو منسوخ کردیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زوردار دھماکہ کرتے ہوئے طالبان سے امن مذاکرات کو منسوخ کردیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نویں دور سے وابستہ تمام امیدیں چند گھنٹے قبل اس وقت دم توڑ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں اعلان کردیا ہے کہ مذاکرات کا جاری عمل منسوخ کردیا گیا ہے۔

عالمی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی صدر کی آج کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہونا تھیں جو منسوخ کردی گئی ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی کے حوالے سے جمعہ کے دن افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز نے اطلاع دی تھی کہ انہوں نے اپنا دورہ واشنگٹن ملتوی کردیا ہے۔امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ملاقاتیں منسوخ کردی ہیں۔ اس کی وجہ انہوں نے کابل میں ہونے والے حملوں کو قراردیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ طے شدہ ملاقاتوں کے لیے ہفتے کی شب واشنگٹن پہنچ رہے تھے۔انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذاکرات کی معطلی کا فیصلہ طالبان کی جانب سے کابل حملے کے بعد کیا گیا جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان کی سے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ غیرملکی نشریاتی ادارے کے مطابق سامنے آیا ہے۔

افغان طالبان پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے صدرٹرمپ نے کہا کہ طالبان جنگ بندی نہیں کرسکتے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان میں با مقصد بات چیت اور معاہدہ کرنے کی اہلیت نہیں ہے اور وہ سودے بازی میں اپنی پوزیشن بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

امریکہ کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دریافت کیا کہ آخر طالبان مزید کتنے عشرے تک لڑنا چاہتے ہیں؟دوحہ، قطر میں گزشتہ ایک سال سے جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے گزشتہ دنوں نویں دور کے اختتام پر یہ امید بندھی تھی کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے طے پانے والے معاہدے کی توثیق کے بعد امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔