بدلتا ہوا سماجی فرق

بدلتا ہوا سماجی فرق

انسانی تاریخ کے ابتدائی زمانے میں افراد کے درمیان شاید جسمانی طور پہ فرق ہو۔وہ افراد جو زیادہ صحت مند ہوں،طاقت ور ہوں،چاق و چوبند ہوں،اور شکار کرنے کی مہارت رکھتے ہوں اُن کو دوسروں کے مقابلے میں ممتاز اور طاقت ور تصور کیا جاتا تھا۔لیکن جیسے وقت گزرتا چلا گیا تہذیب کی ترقی کے ساتھ جب سماج میں طبقاتی تقسیم شروع ہوئی تو اب سماجی فرق کا انداز سوچ تبدیل ہو گیا۔جیسے جیسے وقت گزرتا چلا جا رہا ہے انسان کی سوچ اور ترقی کے معنی تبدیل ہو گئے۔اب معاشرے میں انسان کی قابلیت،تعلق،رشتے کچھ معنی نہیں رکھتے اب وہی لوگ،دُنیا کی نگاہ میں قابل احترام ہیں کہ جن کے پاس اقتدار ہو، یا اعلیٰ عہدوں پہ فائز ہوں،جن کے پاس جائیدادیں ہوں،مال و دولت ہو،بڑی بڑی گاڑیاں ہوں،جنہوں نے مہنگی برانڈ کی واچ کلائی پہ باندھی ہو،مہنگے برانڈ کے زرق برق کپڑے زیب تن کیے ہوں۔

اب ان ساری چیزوں میں انسان کہاں ہے،اُس کی اپنی پہچان کدھر ہے۔پہلے بہن بھائیوں میں بڑا بہن بھائی ہی صرف بڑا ہوتا تھا،مگر اب سوچ اور وقت بدل گیا،اب بہن بھائیوں میں بڑ ااُس کو تسلیم کیا جاتا ہے جس کا بینک سٹیٹمنٹ بڑا ہو۔اب معاشرے کے اگر ہم باقی طبقوں پہ نگاہ ڈالیں تو شاید ہمیں کچھ احساس ہو جائے کہ ہم نے کس طرح سماجی فرق کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔

اب میں اُن امراء کی بات کروں گی جو ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔حکمرانوں سے جاگیریں پاتے ہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔اپنے سماجی فرق کے اظہار کے لیے یہ لوگ بڑی بڑی گاڑیاں نعرے مارنے کے لیے کرائے کے لوگ اور ملازمین کی بڑی تعداد ان کی خدمت پر مامور ہوتی ہے۔اب جو لوگ ان اہم عہدوں پہ فائز ہوتے ہیں اگر اُن کا ماضی دیکھیں تو خالی ہاتھ ہوتے ہیں مگر جوں ہی یہ لوگ عہدے سنبھالتے ہیں بس روپے پہ قابض ہو جاتے ہیں اور ناجائز کام ان کے لیے جائز اور اپنے سے نچلے طبقے کے لوگوں پہ ظلم کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔کیونکہ یہ لوگ خود کو افضل اور دوسروں کو کمتر تصور کرتے ہیں۔

جن لوگوں نے ہمارے معاشرے کے سماجی فرق کو تیزی سے بڑھایا ہے اُن کے خاندان کے افراد کا تعلق اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کیوجہ سے اور ان کی آنے والی نسلیں ان کی وراثت کیوجہ سے خود کو 

افضل و برتر سمجھتے ہیں۔یہ لوگ اپنی حیثیت کو قائم رکھنے کے لیے آپس ہی میں شادی بیاہ کرتے ہیں تاکہ دوسرے طبقے کے لوگ ان میں شامل ہو کر مراعات نہ حاصل کر سکیں اس کی کئی مثالیں آپ کو سیاستدانوں کی زندگیوں میں ملیں گی وہ سیاسی جماعتوں کی تمیز کیے بنااپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ رشتے نبھاتے ہیں اور دُنیا کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے خاندان کو قائم رکھنے کے لیے خاندانوں کے شجرے رکھتے ہیں۔جب وسط ایشیا،ایران اور افغانستان سے لوگ ہجرت کرکے ہندوستان گئے تو یہ لوگ اپنے خاندانوں کے شجرے بھی ساتھ لائے تاکہ ان کی بنیاد پہ وہ خود کو اعلی خاندان کا ثابت کریں اور حکومت سے مراعات لے سکیں۔

اسی طرح وقت حاضر میں بھی دیکھ لیجیے کہ وہ نواب فیملیز یا وہ لوگ جنہوں نے پاکستان بنتے وقت الحاق کیا اُس وقت بھی انگریزوں سے مراعات لیں اور آج بھی وہ لوگ ہمیشہ اقتدار کے مزے لیتے ہی ہر دور میں دکھائی دیں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو پاکیزہ خون کے مالک سمجھتے ہیں اور یہ بھی تصور کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ صلاحیتوں اور صفات کے مالک ہیں۔اس لیے معاشرے میں خاندانی ہونے کیوجہ سے اس کی عزت کی جاتی ہے اور انہیں اعلیٰ عہدے دئیے جاتے ہیں چاہے ان میں ذہانت،یا عقل کی کمی ہی کیوں نہ ہو مگر ہوتے وہ خاندانی،آج ان چند خاندانوں کیوجہ سے عام آدمی پڑھا لکھا شخص بے روزگار ہے،ڈگریوں اور ذہانت کے باوجود وہ مزدوری کرنے پہ مجبور ہے،اور انہی لوگوں کیوجہ سے پڑھا لکھا باشعور طبقہ پارلیمنٹ میں نہیں جا سکتا۔

اس چیز کو مزید ہوا تحریک انصاف نے دے دی،تحریک انصاف میں موجود ایک خاص طبقے نے برادری ازم کو خصوصا پروموٹ کیا جو خود کو باقی قوموں سے اعلیٰ اور برتر تصور کرتے ہیں اور باقی قوموں کو حقیر اس لسانیت کے چکر میں آج ملک میں بے شمار قابل لوگوں کی ذہانت کو یونہی ردی کی مانند ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے اب اس طبقے نے ساری جماعتوں میں اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ کر رکھا ہے مختلف عہدوں کی صورت میں تاکہ کوئی دوسرا آگے نہ آ سکے چاہے وہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو۔

اگر ہم (ن)لیگ کی بات کریں تو اُس میں بھی یہی چیز ملتی ہے رہی بات پاکستان پیپلز پارٹی کی تو اُس میں ورکر کی بہت اہمیت تھی لسانیت کو بھی پروموٹ نہیں کیا جاتا تھا مگر یہ اُس وقت تک تھا جب شہید بی بی بینظیر بھٹو صاحبہ پارٹی کو لیڈ کر رہیں تھیں جب ورکر کو دیوار کے ساتھ لگایا اور اُنہی چیزوں کو پروموٹ کیا گیا تو آج پارٹی کی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔

اگر اس پارٹی پہ بھی مستقبل میں عروج آگیا تو میں دعوے سے یہ بات کہتی ہوں کہ وہی لوگ آگے آئیں گے جن کا شجرہ نسب بن چُکا ہے تو پھر جمہوریت کہاں؟

کیا کبھی یہ سماجی فرق ختم ہو گا؟یہ وہ تقسیم ہے جس نے نہ صرف معاشرے بلکہ ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔اب اس طبقے کے خلاف آواز اُٹھانے والا تاجر،استاد،وکیل،اور متوسط طبقہ ہے جس کی بات کو اہم نہیں سمجھا جاتا اور ان کی آواز کو دبانا بھی آسان ہوتا ہے اور ہاں اگر اس طبقے کو تھپکی تب ملتی ہے جب ان سیاستدانوں کے خاص مقصد کو پوراکرنے کے لیے احتجاج کے لیے سڑکوں پہ نکلتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ ایک اور لحاظ سے جو سماجی فرق آتا ہے وہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اور اس کے استعمال کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک پروفیشنل طبقہ وجود میں آیا جس کی ضرورت بڑی کارپوریشنوں کو ہے لہٰذا ان میں آئی۔ٹی کے ماہرین،بھی شامل ہیں اب تقسیم کیسے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک بچہ میرے پاس آیا کہ مجھے فلاں کالج میں ایل۔ایل۔بی میں ایڈمیشن لینا ہے میں میرٹ پہ بھی ہوں مگر مجھے ایڈمیشن نہیں مل رہا،آپ میری کچھ ہیلپ کر دیں،میں نے اُس بچے کے کہنے پہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے بات کی تو اُنہوں نے بڑی زبردست بات کی کہ ہمارے ایڈمیشن مکمل ہیں اور اگر اس کا والد وکیل ہے تبھی ہم اس کو ایڈمیشن اس سیٹ پہ دے سکتے ہیں کیونکہ اُن کے لیے ایک خاص کوٹہ پڑا ہے۔

چلئے مان لیتے ہیں کہ ایسا ایک طریقہ بنا ہے مگر اس تقسیم سے کتنے قابل بچے اس شعبے سے محروم ہو گئے ہونگے ایسے بہت سے سیکٹر ہیں جہاں اس تقسیم سے بہت سے قابل لوگ رد ہو جاتے ہیں۔

ایسی تہذیب کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ سوسائٹی کو ادنیٰ اور اعلیٰ، برتر اور کم ذات،میں تقسیم کرکے معاشرے کے ٹکڑے کر دیتی ہے۔ جب معاشرے کی اکثریت محروم رہ جائے اور ذرائع پر اقلیت قابض ہو جائے تو اس صورت میں سوسائٹی ہمیشہ طبقاتی کشمکش اور انتشار کا شکار رہتی ہے۔

مصنف کے بارے میں