آخر کیوں ……

آخر کیوں ……

آج کل سابق وزیراعظم عمران خان ”خاکی اسٹیبلشمنٹ“ کے زیر عتاب ہیں اور ان کے لئے سکھ کا ہر دروازہ ہر کھڑکی بند ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب ”خاکی“ آپ سے ناراض ہوں تو تمام دنیاوی نوری بھی آپ کے خلاف کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ ”ناری“ یعنی ان کے مخالفین تو ہیں ہی آگ اور آگ سے خیر کی توقع ہی فضول ہے۔ پسند نا پسند کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ بہت متلون مزاج ہے اور گرگٹ کی طرح اپنا رنگ اس تیزی سے بدلتی ہے کہ کل تک جو لاڈلے ہوتے ہیں وہ اگلے لمحے انہیں اس طرح گود سے اتار پھینکتے ہیں جیسے وہ کوڑھ کے مریض ہوں۔ لیکن ایک سوال ہے بلکہ ہمیشہ رہے گا کہ ”آخر کیوں“ اسٹیبلشمنٹ کا سیاستدانوں کے لیے پسندیدہ کھیل میوزیکل چیئر ہی رہا ہے۔ 75 سال سے ایک ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے جس سے کچھ حاصل حصول نہیں۔ بلکہ ہم نے انہی تجربوں سے کچھ نہیں سیکھا حتیٰ کہ وطن کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ مودبانہ عرض ہے کہ اس لاحاصل کھیل سے باہر آ کر کچھ نیا ہی سوچ لیں حکومت کے سٹیک ہولڈر ہی بن جائیں تا کہ حکومت میں بیٹھ کر آپ ان پر بہتر نظر رکھ سکیں اور روزن دیوار سے جھانکنے اور شب خون کے الزام سے بھی بچ جائیں۔

فی الوقت تو متحدہ مخلوط حکومت ”خاکی اسٹیبلشمنٹ“ کے سینے سے چمٹی شیِرمادر سے لطف اندوز ہو رہی ہے اور ماضی کے تجربات کے پیش نظر یہ جانتے ہوئے بھی کہ انبساط کے یہ لمحات عارضی ہیں پھر بھی حکومتی اتحاد اپنا تن من سب اس پر وار رہا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بار بار ڈسی جا چکی ہے لیکن ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے یہ ہمیشہ وقتی فائدے کے لیے اسی سوراخ میں بار بار ہاتھ ڈالتی ہے۔ اس بے سود مہم جوئی میں اس کے پلے بھی کچھ نہیں پڑتا اور جگ ہنسائی کے علاوہ عوامی حمایت بھی کھو دیتی ہے۔ آخری بار جب اسٹیبلشمنٹ کے سانپ نے نواز شریف کو ڈسا تھا تو وزیر اعظم ہاؤس سے سیدھے نااہلی اور پھر جیل ان کا مقدر ٹھہری۔ تب ”مجھے کیوں نکالا“ اور ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے نے عوام میں ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو قدرے سنبھالا دیا لیکن پھر اسٹیبلشمنٹ کا اقتدار کا دانہ ایک بار پھر چگ کر اپنے آپ کو عوام کی نظروں میں صفر پر کھڑا کر دیا۔ اب خالی ہاتھ حکومتی اتحاد کی تمام تر کوششیں عوام کی عدالت یعنی عام انتخابات کی طرف جانے کے بجائے اپنے حریف عمران خان کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے میں لگی ہیں اور اس کھیل میں اسٹیبلشمنٹ ان کا مکمل ساتھ دے رہی ہے۔ 14 جماعتی متحدہ حکومت کا الیکشن سے فرار ظاہر کرتا ہے کہ انہیں عوام کے غصے کا اندازہ ہے اور اس سے بچنے کا واحد حل جو انہیں نظر آ رہا ہے وہ یہ کہ اکلوتی مخالف جماعت اور اس کے لیڈر پر پابندی لگا کر مقابلے کو یکطرفہ بنایا جائے۔ ایسا تجربہ ڈکٹیٹر ایوب خان بھی کر چکے ہیں اس کا جو نتیجہ نکلا قوم اور سلطنت آج تک بھگت رہے ہیں؟ اگر یہی کچھ عمران خان کے ساتھ کیا گیا تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن قرآئن کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے۔

برادر خورد شہباز شریف جو خود کو ہمیشہ نواز شریف کا ہم پلہ قرار دینے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں اور ان کے ہر فعل کی نقل کرنے کے عادی ہیں اس بار آپریشن رجیم چینج کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ نے جب انہیں ”وزارت عظمیٰ“ کا دانہ ڈالا تو اپنے نام سے پہلے ”وزیراعظم“ کا سابقہ و لاحقہ لگوانے کے لیے انہوں نے اسے فوراً چگ لیا۔ آج کل معاشی، معاشرتی اور سیاسی محاذ پر جو غدر پڑ رہا ہے اس کی وجہ یہی بے وقت کی وزارت عظمیٰ سے چمٹنا ہے اور اس خواہش نے مسلم لیگ کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ اگر انتخابات شفاف ہوئے تو مخلوط حکومتی اتحاد کو اپنا انجام نوشتہ دیوار کی طرح نظر آ رہا ہے اور اگر انتخابات میں شفافیت کے بجائے اپنی مرضی ٹھونسی گئی تو ہمیں انتخابات میں دھاندلی کی 1977 کی تحریک کو نہیں بھولنا چاہیے۔ لگ یہی رہا کہ ہر صورت متحدہ مخلوط حکومت کو ہی آگے رکھنے کے لیے بساط بچھائی جا رہی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ ایک بساط انسان بچھاتا ہے جس میں ہر چال میں اسی کی جیت ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف میرا رب ہے جس کے سامنے تمام دنیاوی چالیں ہیچ ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بطور مہرہ استعمال کرتے ہوئے اپنی چال تو چل لی ہے لیکن اسے وہ اپنی کامیابی نہ سمجھے کیونکہ کھیل ابھی باقی ہے۔

شہباز شریف بطور اچھے ایڈمنسٹریٹر جانے جاتے ہیں لیکن اس بار انہوں نے اپنے نئے سیاسی اتالیق آصف زرداری سے سیاسی گر بھی سیکھ لیے ہیں۔ اور اب وہ بھی سیاست کر رہے ہیں اور اپنی سیاسی چالوں سے اپنے مہروں کے ذریعے بڑے بھائی نواز شریف کو ہی مات دینے پر تلے ہیں۔ نواز شریف تو تا حیات نااہل ہیں لیکن ان کی اصل حریف ان کی بھتیجی مریم نواز ہے جو گاہے بگاہے چچا کو کچوکے لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ لگتا ہے اس بار انہوں نے آصف علی زرداری کا جوٹھا پی لیا ہے۔ کہتے ہیں شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے جو ڈیل کی اس میں نواز شریف اور مریم نواز کااگلے پانچ سال تک کوئی مستقبل نہیں ہے۔ شہباز شریف نے نیب سمیت کئی قوانین ختم کیے، کچھ میں ترامیم کی اور کچھ نئی قانون سازی بھی کی۔ لیکن ایسی قانون سازی نہیں کی جس سے بڑے بھائی نواز شریف یا مریم نواز کو فائدہ ہو۔ مجبوراً نواز شریف نے بیچارگی سے اعلیٰ عدلیہ سے اپنی اور بیٹی مریم نواز کی اپیلیں سننے کی استدعا کی۔ اس کی ایک وجہ تو اسٹیبلشمنٹ سے وہ ڈیل بتائی جا رہی ہے جس کے تحت شہباز شریف کو عنان اقتدار ملا دوسری طرف منفی سیاست کے ماہر شاطر آصف علی زرداری بھی دل سے نہیں چاہتے کہ ان کے مقابلے میں نواز شریف سامنے آئیں۔ وہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سے آسانی سے کھیل سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کے تمام فیصلوں میں سکہ نواز شریف کا ہی چلتا ہے لیکن شہبازشریف جب بھی بڑے بھائی کی کسی بات سے اختلاف رائے رکھتے ہیں تو اتحادی حکومت کا کارڈ کھیلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کی حکومت ہوتی تو سب ممکن تھا لیکن ہمیں اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اپنی سزا کے حوالے سے ضد بھی کی تھی لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ اتحادی راضی نہیں تو وہ خاموش ہو لیے۔ آصف زرداری تو اتحادی حکومت کو انتخابی اتحاد بنانے کے موڈ میں ہیں اور یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر انتخابی اتحاد نہ بنا تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ شنید ہے کہ نواز شریف انتخابی اتحاد کے حق میں نہیں ہیں۔

 جب میں نے حکومتی اتحادیوں سے نواز شریف کی سزا کے خلاف آئینی اور قانونی اڑچنیں دور کرنے کے لیے قانون سازی کی بات کی تو ان کا موقف تھا کہ اس کا فیصلہ ”بڑے گھر والے“ کریں گے۔ اصل میں از خود کوئی بھی اتحادی ایسا کوئی پنگا لینے کے لیے تیار نہیں جس سے اصل ”اتحادی“ یعنی خاکی اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو جائے۔ شہباز شریف کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر نواز شریف وطن واپس آ بھی گئے تو آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی مسلم لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہی ہوں گے۔ان کو یقین دلایا گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز ان کی راہ میں رکاوٹ نہ ہوں گے۔ لیکن ہونہار بروا نے عمران خان کو بھی ان کے سیاسی رستے سے ہٹانے کی مانگ کر لی ہے۔ دیکھیں ان کی خواہش پر عمل کیسے کیا جاتا ہے خواجہ آصف جو اسٹیبلشمنٹ کے بے بی ہیں نے انکشاف کر دیا ہے کہ عمران خان کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور فارن فنڈنگ سے بات آگے بڑھ چکی ہے۔ ہو سکتا ہے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن ایسا کرنے کے نتائج کیا ہوں گے یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔ 

کالم کے بارے میں اپنی رائے اس وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔

مصنف کے بارے میں