ریاست سکول میں فری یونیفارم،بستہ، کتابیں اوردودھ کا گلاس فراہم کرے،چیف جسٹس پاکستان

ریاست سکول میں فری یونیفارم،بستہ، کتابیں اوردودھ کا گلاس فراہم کرے،چیف جسٹس پاکستان
کیپشن: فائل فوٹؤ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں سکولوں کی فیس میں اضافے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اب تو لوگوں کے پاس چوائس ہی نہیں رہی،ریاست سکول میں فری یونیفارم،بستہ، کتابیں اوردودھ کا گلاس فراہم کرے،پھرلوگوں کو چوائس دے کہ اپنے بچوں کوسرکاری سکول میں پڑھاناچاہیں گے یاپرائیویٹ میں۔


چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں نے سرکاری پرائمری اورہائی سکول میں تعلیم حاصل کی،اب وہ سکول نظر ہی نہیں آتے،گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد میں کیمبرج یونیورسٹی گیا ،وہ سرکاری سکول جن میں ہم پڑھتے تھے وہ تو اب نظر ہی نہیں آتے۔

 
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پہلے گلی محلوں میں سرکاری تعلیمی ادارے ہوتے تھے،اب وہ پرائمری سکول بھی نظر نہیں آتے، تعلیم کی فراہمی پرریاست اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہی، جسکے باعث اتنا ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے،ریاست سے پوچھا جائے کہ وہ تعلیم کے شعبے میں کر کیا رہی ہے،ہوناتویہ چاہیے کہ ریاست پراچھی تعلیم فراہم کرنے پرزوردیاجائے،

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک طرف ریاست تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کررہی،دوسری طرف ریاست پرائیویٹ سکولوں کوپابند کررہی ہے کہ فیس زیادہ نہیں بڑھائی جاسکتی،نجی سکولوں کیساتھ حکومت سے بھی پوچھیں گے وہ کیا کر رہی ہے۔