نئی ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لائے جانے کا امکان

 نئی ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لائے جانے کا امکان
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد:حکومت کی جانب سے  نئی ایمنسٹی اسکیم کو 15 اپریل کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لائے جانے کا امکان ہے جو 30 جون 2019ء تک جاری رہ سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ،نئی ایمنسٹی اسکیم میں پاکستان میں بے نامی اثاثوں پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد، بیرونی اثاثوں کو پاکستان میں لانے کیلئے 5 فیصد ہوگی۔ غیر قانونی گاڑیوں، زیورات، مشینری اور حصص کو قانونی بنانے کیلئے ٹیکس کی شرح 5۔7  فیصد رکھی جائےگی۔ ایمنسٹی سکیم کو بجٹ کے دوران پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے گا۔ بل میں اسکیم کی آخری تاریخ بھی درج ہو گی۔

سال 2000ء کے بعد کے سرکاری افسران اور ان کے اہلخانہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ مجرمانہ نوعیت کے مقدمات میں شامل افراد بھی سکیم سے مستفید ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ ن لیگ دور کی ایمنسٹی سکیم میں 1460 ارب کے مقامی اور 1040 ارب کے غیر ملکی اثاثے ظاہر ہوئے جس سے 124 ارب روپے کا ٹیکس حاصل ہوا تھا۔