مشن جی ٹی روڈ، نواز شریف کا قافلہ لاہور کی جانب رواں دواں

 مشن جی ٹی روڈ، نواز شریف کا قافلہ لاہور کی جانب رواں دواں

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس کیس میں نا اہل ہونے کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف آج اپنی سیاسی طاقت کا پہلا مظاہرہ کرنے کے لیے پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔


سابق وزیراعظم کی روانگی سے قبل وزیراعظم خاقان عباسی اور ان کی کابینہ کے متعدد اراکین نے پنجاب ہاؤس میں ان سے ملاقات کی اور انھیں الوداع کیا۔

روانگی سے قبل اجلاس

لاہور روانگی سے پہلے پنجاب ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں لیگی قیادت نے ریلی کے روٹ کے حوالے سے مشاورت کی۔ ن لیگ کی جانب سے آج کے دن کو نوازشریف سے اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا جارہا ہے۔

نواز شریف کا قافلہ اسلام آباد کے ڈی چوک سے سے فیض آباد پہنچے گا اور مری روڈ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جی ٹی روڈ سے لاہور کے سفر پر روانہ ہو گا۔ اس موقع پر سکیورٹی اور ٹریفک کا خصوصی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی قیادت میں ریلی مارگلہ روڈ اور ایمبیسی روڈسے ہوتے ہوئے ایکسپریس چوک پر آئے گی جہاں پر ریلی کے ساتھ جانے والوں کو جمع ہونے کی ہدایت کی گئی ہے اور یہیں نواز شریف کارکنان سے پہلا خطاب کریں گے۔

ایکسپریس چوک سے روانگی کے بعد نواز شریف کو مجاہد پلازہ بلیو ایریا، فیصل چوک، زیرو پوائنٹ، آئی ایٹ اور فیض آباد استقبالیہ دیاجائے گا جس کے بعد ریلی مری روڈ پر فیض آباد، شمس آباد، سکستھ روڈ، رحمان آباد، چاندنی چوک، ناز سینما، کمیٹی چوک اور لیاقت باغ سے گزرے گی۔ ان تمام مقامات پر ریلی کو استقبالیہ دیا جائے گا۔ نواز شریف کے فیض آباد، شمس آباد اور کچہری میں بھی خطابات متوقع ہیں۔ مریڑ چوک، کچہری چوک سے ریلی ٹی چوک جائے گی اور وہاں سے روات سٹی پہنچے گی جہاں پر بھی نواز شریف کا کارکنوں سے خطاب متوقع ہے۔ اس کے بعد ریلی جی ٹی روڈ سے مندرہ، گجر خان، سہاوا اور دینہ سے گزرتی ہوئی جہلم پہنچےگی، جہاں نواز شریف کارکنوں سے خطاب کریں گے اورپھر سرائے عالمگیر میں رات قیام کریں گے۔

ریلی کے روٹ پر اسلام آباد پولیس، اسپیشل برانچ اور حساس اداروں کے 2500 سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔ ریلی کی فیض آباد تک سیکیورٹی کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس کی ہو گی۔ اس کے بعد پنجاب پولیس سیکیورٹی فراہم کرے گی جب کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں راولپنڈی میں 4 ہیلی پیڈ بھی بنا دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے 11 اگست تک لاپور سے راولپنڈی تک جی ٹی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں