ایرانی حکومت پر قرضوں کاحجم 60ارب ڈالر تک پہنچ گیا

ایرانی حکومت پر قرضوں کاحجم 60ارب ڈالر تک پہنچ گیا

تہران :سابق صدارتی امیدوار احمد توکلی نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ داخلی بینکنگ سیکٹر اور غیر سرکاری اداروں کی مد میں ایرانی حکومت پر قرضوں کا موجودہ حجم 60 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔


ایرانی خبر رساںایجنسی کے مطابق توکلی نے بتایا ہے کہ ایرانی حکومت پر اندرونی قرض کا حجم 220 ہزار ارب ایرانی تومان (تقریبا 60 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے اور حسن روحانی کی حکومت کی پہلی مدت (2013 - 2017) کے دوران اس میں 2.5 فی صد کا اضافہ ہوا۔

ایران میں ان دنوں تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ، کم اجرتوں اور بے روز گاری اور غربت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو کہ سرکاری اداروں میں بدترین بدعنوانی کا شاخسانہ ہے۔ اس بدعنوانی نے عام ایرانی شہری کی زندگی اور معاشی حالات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

توکلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہفتے کے روز تہران میں روحانی کے حلف اٹھانے کی تقریب میں سیکڑوں غیر ملکی مہمانوں کو دعوت دیے جانے کے سبب قومی خزانے کو 1.2 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔

توکلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہفتے کے روز تہران میں روحانی کے حلف اٹھانے کی تقریب میں سیکڑوں غیر ملکی مہمانوں کو دعوت دیے جانے کے سبب قومی خزانے کو 1.2 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔

یاد رہے کہ احمد توکلی نے سابقہ ایرانی حکومتوں میں کئی وزارتی اور انتظامی منصبوں کو سنبھالا اور وہ ملک کے اقتصادی حالات کے حوالے سے متنازع تنقیدی موقف رکھتے ہیں۔