حسن روحانی کی کابینہ میں کوئی سنی رکن پارلیمان نہ خاتون

تہران :ایران کے صدر حسن روحانی کی نئی کابینہ کواس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس میں صرف مرد اراکین پارلیمان کو وزارتیں دی گئی ہیں اوراس کے علاوہ اس میں کوئی خاتون شامل ہے۔


تفصیلات کے مطابق حسن روحانی کو ایران میں نسبتاً اعتدال پسند شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں چند خواتین کو بھی شامل کریں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ ایران کی پارلیمان میں 17خواتین شامل ہیں لیکن ان کی کابینہ میںایک بھی کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

نئی کابینہ کو ابھی پارلیمنٹ سے منظوری ملنی باقی ہے جبکہ حسن روحانی کی اس کابینہ میں کوئی سنی رکن پارلیمان بھی شامل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے صرف ایک خاتون کابینہ میں وزارت کے عہدے پر رہی ہیں۔فروری میں 'خواتین، اعتدال پسندی اور ترقی' کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں انھوں نے سیاست اور ثقافت میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کی بات کی تھی۔انھوں نے خواتین کے حقوق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو وہ روزگار کے مواقعوں میں برابری لائیں گے اور خواتین کو ملازمت میں آنے کے مواقع فراہم کریں گے۔اب ان کے ناقد 68 سالہ عالم پر اپنا عہد توڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس منتخب کردہ کابینہ میں پارلیمان کی جانب سے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی کیوں کہ ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی منظوری کے بعد ہی ان تمام اہم عہدوں پر وزرا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔