ووٹ کی رازداری کا معاملہ، عمران خان کا معافی نامہ مسترد

ووٹ کی رازداری کا معاملہ، عمران خان کا معافی نامہ مسترد

الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف کے بیان حلفی کیساتھ کل نیا جواب طلب کر لیا۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے ووٹ کی رازداری افشاں کرنے کے معاملے پر وکیل بابر اعوان کے دستخط والا عمران خان کا معافی نامہ مسترد کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف کے بیان حلفی کیساتھ کل نیا جواب طلب کر لیا۔

الیکشن کمیشن میں ووٹ کی رازداری افشاں کرنے کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ وکیل بابر اعوان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کر ووٹ نہیں دکھایا۔ عمران خان کی مرضی سے ووٹ کی تصاویر نہیں لی گئی اور رش کے باعث مہر والا پردہ گر گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ناشائستہ زبان کا استعمال، عمران ، خٹک، ایاز صادق اور فضل الرحمان کی معافی قبول


عمران خان نے پوچھا تھا کہ کہاں کھڑے ہو کر مہر لگاؤں۔ تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ ووٹ دکھانے میں میرے موکل کی مرضی شامل نہیں اور ووٹ کی رازداری افشاں کرنے والا کیس ختم کیا جائے۔ الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی کہ این اے 53 سے روکا گیا نوٹی فیکیشن جاری کیا جائے۔

 

قبل ازیں الیکشن کمیشن میں ضابطہ خلاق کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی بھی سماعت ہوئی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا میں عمران خان کی گفتگو اور ووٹ کی رازداری سے متعلق دونوں مقدمات میں وکیل ہوں۔ دونوں کیسوں میں ایک ہی جواب دائر کر دیا ہے اور عمران خان نے جان بوجھ کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان

سابق وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کے وکیل سکندر بشیر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا پرویز خٹک نے قوم سے معافی مانگی جو ٹی وی پر نشر بھی ہوئی اور پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن سے بھی معافی مانگی۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں