قومی اسمبلی کا اجلاس مچھلی منڈی میں تبدیل

قومی اسمبلی کا اجلاس مچھلی منڈی میں تبدیل
کیپشن: image by facebook

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے شدید شورشرابہ کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر نے لگا ،مسلم لیگ (ن)کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور خواجہ محمد آصف مریم نواز کی گرفتاری پر حکومت پر برس پڑے جس پر وفاقی وزیر شفقت محمود اور وزیر مملکت علی محمد خان نے اپوزیشن کو بھرپور جواب دیا ، حکومتی اور اپوزیشن اراکین ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے ،ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کرتے رہے تاہم اراکین نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مریم نواز کی گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر لیگی رہنماؤں کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ ہے۔ شہباز شریف کی تقریر کے دوران چند حکومتی ارکان کی جانب سے نعرے بازی بھی کی جارتی رہی، تاہم ڈپٹی اسپیکر نے اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی ۔ شہباز شریف کی تقریر کے جواب میں جب شفقت محمود نے اپنی تقریر شروع کی تو مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے ’’مک گیا تیرا شو نیازی ‘گو نیازی گو نیازی ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا ۔

شفقت محمود کی تقریر کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف کو مائیک دیا تو حکومتی ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی شروع کر دی ، ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت کے باوجود حکومتی ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی نعرے بازی شروع کر دی ۔ حکومت ارکان ’’گلی گلی میں شور ہے، مریم کا بابا چور ہے ‘‘ کے نعرے لگائے اس پر اپوزیشن ارکان نے جوابی نعرے لگائے کہ گلی گلی میں شور ہے، عمران نیازی چور ہے ۔ اس موقع پر لیگی رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ ہم بھی بول سکتے ہیں، اگر یہ نہیں سنیں گے تو ہم بھی بولنے نہیں دیں گے۔