جنید جمشید کا وہ گانا جو مولانا طارق جمیل نے سنا اور پھر اسکے اشعار دوسروں کو بھی سنائے

جنید جمشید کا وہ گانا جو مولانا طارق جمیل نے سنا اور پھر اسکے اشعار دوسروں کو بھی سنائے

کراچی : پی آئی اے کے بدقسمت طیارے پی کے 661 میں دیگر مسافروں کے ہمراہ جنید جمشید بھی شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں اور اب ان کی صرف یادیں ہی دلوں میں باقی رہ گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک یاد ہم بھی تازہ کرتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ جنید جمشید نے اپنی زندگی میں ایک نجی محفل کے دوران ایک واقعہ سنایا جس میں ایک گانے کے بارے میں بتایا کہ یہ میری سابقہ اور حالیہ دونوں زندگیوں کو بیان کرتا ہے ۔

جنید جمشید نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا ’جب میں میوزک میں تھا تو کشور کمار کا ایک گانا صرف اپنے لیے گاتا تھا اور کسی کو نہیں سناتا تھا کیونکہ وہ میری اُس زندگی کو بیان کرتا تھا۔ جب میں نے موسیقی کی دنیا چھوڑ دی تو مجھے لگتا کہ یہ گانا میری اِس والی زندگی کو بھی بیان کرتا ہے۔ایک دن میں نے اپنے استاد مولانا طارق جمیل صاحب سے کہا کہ میں یہ گانا گادوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ گانا کسی اللہ کے بندے نے لکھا ہے، لیکن مولانا نے کہا کہ نہیں یار تم گانا گاؤ گے تو بہت سے لوگ بہک جائیں گے‘۔

انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آج میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کو وہ دو اشعار ضرور سناؤں کیونکہ وہ اشعار ہم سب کی زندگی کو بیان کرتے ہیں‘۔ جنید جمشید نے حاضرین کو کشور کمار کے گانے ”یہ جیون ہے ، اس جیون کا یہی ہے رنگ و روپ،، تھوڑے غم ہیں، تھوڑی خوشیاں، یہی ہے چھاوں دھوپ“ کے کچھ اشعار سنائے ۔واضح رہے کہ اس گانے کی شاعری آنند بخشی نے لکھی جبکہ لکشمی کانت پیارے لال نے اس کی دھن بنائی اور کشور کمار نے فلم ” پیا کا گھر“ کیلئے گایا تھا۔