اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں پر بدترین تشدد کا سلسلہ جاری

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں پر بدترین تشدد کا سلسلہ جاری

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں پر تہذیب وتشدد کے بدترین پہاڑ توڑے جانے کا سلسلہ اپنی جگہ پر جاری ہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو اذیتیں دینے سے متعلق سینکڑوں شکایات پر کارروائی کے بجائے صہیونی تحقیقاتی اداروں نے انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے مکروہ حربوں کی تحقیقات کےلئے دی گئی درخواستوں اور شکایات پر کارروائی نہ کرنا صہیونی تفتیش کاروں کو مکروہ حربے اور ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کا نیا جواز فراہم کررہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مانیٹرنگ یونٹ کے تفتیش کے دوران مانیٹرنگ سیل کے ایک اہلکار کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی مگر اس پربھی عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ قیدیوں پر تشدد کے ہولناک حربے استعمال کیے جاتے ہیں اور انہیں کئی کئی روز تک سونے سے روکا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001ءسے 2008ءکے دوران اسرائیلی سپریم کورٹ میں فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد کی 600 شکایات کی گئی تھیں۔ 2009ءسے 2012ءتک مانیٹرنگ سیل نے سیکڑوں شکایات کی چھان بین کے بعد انہیں داخل دفتر کردیا تھا اوران شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

2013ءمیں 67، 2014ءمیں 148 اور 2015ءاور 2016ءمیں سینکڑوں شکایات کی گئیں مگر کسی ایک شکایت پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔