سابق یمنی صدر کی وصیت منظر عام پر آگئی اس میں کیا لکھا تھا پڑھ کر افسردہ ہو جائیں گے

ریاض : یمن کے سابق مقتول صدر علی عبد اللہ صالح کی مبینہ وصیت منظر عام پر آگئی ہے ، وصیت میں سابق صدر نے عوام اور قوم کو حوثی باغیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے روکا ہے جبکہ ملک کے حوالے سے اہم خطرات کا اظہار بھی کیا ہے۔

سابق یمنی صدر کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے وائس سیکرٹری یاسر العواضی کے بھائی طارق العواضی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ” وصیت “ شیئر کی ہے، ان کے مطابق یہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی آخری " وصیت " ہے جو انہوں نے حوثی باغیوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے ایک روز قبل لکھی تھی۔

مذکورہ وصیت پر سابق صدر کے دستخط بھی موجود ہیں۔ وصیت کے متن میں لکھا گیا ہے کہ "اگر تم لوگوں کو یہ کاغذ مل جائے تو یہ جان رکھو کہ وطن بڑا قیمتی ہے اور ہم اس کے حوالے سے غفلت نہیں برت سکتے۔ میں اپنی اولاد اور عوام کو وصیت کرتا ہوں کہ اس مجرم ملیشیا (حوثیوں) کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں اور نہ یمن کو ان کے حوالے کریں اور خود کو ان کے واسطے ایک بھیانک خواب میں تبدیل کر لیں۔

میں اس وقت خود کو ایسے بہت سے غداروں کے درمیان دیکھ رہا ہوں جنہوں نے یمن کو سستے داموں فروخت کر ڈالا۔ یمن کے عظیم عوام کو میرا سلام ، ہماری ملاقات اب جنت الفردوس میں ہو گی"۔مذکورہ وصیت پر 3 دسمبر کی تاریخ موجود ہے جو صالح کے قتل سے ایک روز پہلے کا دن ہے تاہم ابھی تک صالح کے اہل خانہ اور خاندان کے ذرائع سے رابطہ نہ ہونے کے سبب اس وصیت کے درست ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔