دھرنے بند نہ ہوئے تو ملک میں جتھوں کی حکومت ہو گی : چوہدری نثار

ٹیکسلا :پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دھرنے بند نہ ہوئے تو ملک میں جتھوں کی حکومت ہوگی،دھرنوں کا باب ہمیشہ کے لیے بند کرنا فوج سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے،میرے دور میں دھرنوں کو کامیابی سے نمٹا گیا، فرق یہ تھا اس وقت کا وزیر داخلہ پولیس اور ایف سی کے ساتھ وہاں کھڑا تھا،مسلم لیگ (ن) پرمشکل وقت ہے اس سے نکلنے کیلئے جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا چاہیے،حکومت کو تجویز دیتا ہوں کہ اداروں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں،پوری توجہ 2018کے الیکشن پر دیں، میں نہ پارٹی چھوڑ رہا ہوں اور نہ فارورڈ بلاک موجود ہے، (ن)لیگ نے اپنے موجودہ سیاسی بیانیے کو اگر جاری رکھا تو انہیں آئندہ الیکشن میں سخت نقصان ہو گا،ڈیڑھ سال سے اس کوشش میں ہوں کہ جاوید ہاشمی کیلئے پارٹی کے دروازے کھل جائیں وہ میری وجہ سے نہیں قیادت اختلافات کی وجہ سے گئے، غیب کا علم شیخ رشید کے پاس ہے میرے پاس نہیں، سینیٹ الیکشن ہو بھی گیا تو مسلم لیگ (ن)کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی، سینیٹ الیکشن کو روکنے کی روایت پڑنا ملک کیلئے تباہ کن ہو گا، میری تمام حمایت اور نیک خواہشات اپنی پارٹی کے ساتھ ہیں،میں کوئی پناہ گزین نہیں کہ کوئی آئے اور میرے گھر پر حملہ کرے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فیض آباد دھرنے پر بات کی اور ان سے وزیراعظم بننے کے بعد ملاقات کا وقت مانگا۔


ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میرے دور میں اسلام آباد میں دو دھرنے ہوئے، کہا تھا روایت ڈالی گئی تو ہر چند ماہ بعد ایک دھرنا ہو گا، ماضی میں بھی دھرنے کی اجلاس وزارت داخلہ نے نہیں بلکہ حکومت نے دی، اگر کسی ملک نے آگے بڑھنا ہے تو دھرنوں کا باب بند کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دو دھرنوں کے وقت وزارت نے بہت خوش اسلوبی سے معاملہ حل کرلیا، پولیس اور ایف سی نے خیبرپختونخوا سے آنے والے مظاہرین کو روکا، فرق یہ تھا کہ اس وقت کا وزیر داخلہ وہیں موجود تھا جو کہتے ہیں ہماری پولیس اور ایف سی اہل نہیں ماضی دیکھیں، پولیس اور ایف سی کوئی اقدام کرتی ہے تو سپورٹ کرنا چاہیے، فیض آباد انٹرچینج پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، فیض آباد انٹرچینج پر قبضے کا مطلب دونوں شہروں پر قبضہ ہے، پولیس اور ایف سی میں دھرنوں کو روکنے کی پوری صلاحیت ہے، حکومت سے درخواست ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ کھڑی ہو، رانا ثناء اللہ کے بارے میں جواب وہ خود دے سکتے ہیں،میرے گھر کے اندر سے فائرنگ نہیں ہوئی، میرے گھر کی دیواریں بہت اونچی ہیں، دھرنے نہ روکے گئے تو پھر جتھوں کی حکومت ہو گی، بدقسمتی سے دھرنے سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات درست نہ تھے، میں کوئی پناہ گزین نہیں کہ کوئی آئے اور میرے گھر پر حملہ کرے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فیض آباد دھرنے پر بات کی، شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد ان سے ملاقات کا وقت مانگا۔


انہوں نے کہا کہ میرے دور میں دھرنوں سے کامیابی سے نمٹا گیا، پوری عدلیہ کو ہمیں ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے، اگر ایک بینچ سے ہمارے حق میں فیصلہ نہیں آیا تو دوسرے بینچ سے رابطہ کرنا چاہیے،مجھے فوج سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی میں نے فوج سے تمغہ لینا ہے، مگر ہمیں بلاوجہ فوج کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے، یہ میاں نواز شریف اور پارٹی کے فائدے میں ہے، ریاست میں ہر قسم کے لوگ حکومتیں اور ادارے ہوتے ہیں، دھرنوں کے باب کو ختم کرنا ہر سیاسی پارٹیوں اور تمام اداروں کی ذمہ داری ہے، یہ جمہوری ملک ہے ،ہمارے دھرنے ہو سکتے ہیں لیکن وہ دھرنے جو عام زندگی میں خلل پیدا نہ کریں ایسا دھرنا قابل قبول نہیں ہو گا جس سے کسی مزدور کی روزی میں خلل آئے یا کسی کی آمدورفت کا راستہ بند ہو جائے، دھرنے ضرور دیں اور پوری طاقت سے دیں لیکن روزمرہ کی معمولات زندگی میں خلل نہ پیدا کریں، حکومت کو تجویز دیتا ہوں کہ اداروں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں اور پوری توجہ 2018کے الیکشن پر دیں، میں ڈیڑھ سال سے اس کوشش میں ہوں کہ جاوید ہاشمی کیلئے پارٹی کے دروازے کھل جانے چاہئیں، جاوید ہاشمی میری وجہ سے پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ انہیں قیادت سے اختلافات تھے، مسلم لیگ (ن) پر اس وقت مشکل وقت ہے اس سے نکلنے کیلئے جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ میں نہ پارٹی چھوڑ رہا ہوں اور نہ فارورڈ بلاک موجود ہے، مسلم لیگ (ن) نے اپنے موجودہ سیاسی بیانیے کو اگر جاری رکھا تو انہیں آئندہ الیکشن میں سخت نقصان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ غیب کا علم شیخ رشید کے پاس ہے میرے پاس نہیں ہے، سینیٹ الیکشن اگر ہو بھی گیا تو مسلم لیگ (ن)کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی، سینیٹ الیکشن کو روکنے کی روایت پڑنا ملک کیلئے تباہ کن ہو گا، (ن) لیگی حکومت کو اس وقت وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے، میری تمام حمایت اور نیک خواہشات اپنی پارٹی کے ساتھ ہیں، قوم دیکھے کہ زرداری اور طاہر القادری پہلے ایک دوسرے کو کیا کہتے تھے اور آج ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔