نئی دہلی: بھارت سے ایشیا کپ2018   کی میزبانی    چھننے  کا خطرہ منڈلانے لگا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے تاحال واضح نہیں کیا کہ اس ٹورنامنٹ کیلئے پاکستانی ٹیم کو مدعو کیا جائے گا یا نہیں۔اگر قومی ٹیم کو بھارت آنے کی اجازت نہ ملی توایشین کرکٹ کونسل متبادل میزبان ملک کا انتخاب کر لے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب پاکستانی جونیئر ٹیم کو بلانے کی اجازت نہیں ملی توسینئرٹیم کو بلانے کی اجازت ملنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری مکمل سیریز 2007 میں کھیلی گئی تھی ۔ نریندر مودی کی حکومت کی پاکستان مخالف مہم سے بھارتی کرکٹ بورڈ کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انڈر19ایشیا کپ کی میزبانی سے محرومی کے بعد بھارتی بورڈ سے سینئر ٹیموں کے ایشیا کپ کی میزبانی بھی چھننے کا خطرہ ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دن بدن بدترین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں اور جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی قسم کرکٹ روابط کا امکان بھی دم توڑتا نظر آ رہا ہے اور بھارتی کرکٹ بورڈ بھی اس صورتحال کی وجہ سے کافی پریشان نظر آ رہا ہے۔پاکستان کی میزبانی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار بھارت پہلے ہی انڈر19 ایشیا کپ کی میزبانی گنوا چکا ہے اور اب آئندہ سال جون میں شیڈول ایشیا کپ کی میزبانی بھی چھننے کا خطرہ سر پر منڈلانے لگا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ بھارت اپنے ملک ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے پاکستانی ٹیم کو آنے کی دعوت دے گا یا نہیں کیونکہ اگر بھارت ایسا نہیں کرتا تو اسے اپنے فیصلے سے ایشین کرکٹ کونسل کو مطلع کرنا ہو گا تاکہ وہ کوئی متبادل مقام کا انتظام کر سکے۔بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کے آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں مرکز سے پاکستان کی انڈر9 ٹیم کی میزبانی کی اجازت نہیں ملی لہذا اس بات کی امید بہت کم ہے کہ پڑوسی ملک کی سینئر ٹیم کیلئے اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کیلئے پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری کیے گئے تھے لیکن کرکٹ کا معاملہ بہت مختلف ہے کیونکہ دونوں ہی ملکوں کے عوام کرکٹ سے جذباتی طور پر بہت لگا رکھتے ہیں۔آفیشل کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حکومت سے اس سلسلے میں درخواست کی تو ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا لیکن ہمیں جلد ہی فیصلہ کرنا ہو گا کیونکہ ہمیں دونوں ہی صورتوں میں ایشین کرکٹ کونسل کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا ہو گا۔بھارتی کرکٹ بورڈ نے تاحال واضح نہیں کیا کہ اس ٹورنامنٹ کیلئے پاکستانی ٹیم کو مدعو کیا جائے گا یا نہیں۔اگر قومی ٹیم کو بھارت آنے کی اجازت نہ ملی توایشین کرکٹ کونسل متبادل میزبان ملک کا انتخاب کر لے گا۔

یادرہے کہ 2008 میں ممبئی حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان 2007 کے بعد سے کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی گئی۔اس سلسلے میں 2012 میں سرد تعلقات پر جمی برف اس وقت پگھلی جب بھارت نے دو ٹی20 اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان کی میزبانی کی اور تعلقات میں بہتری کی موہوم سی امید پیدا ہوئی تاہم 2014 انتہا پسند مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد تعلقات دن بدن کراب ہوتے رہے۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے سیریز کھیلنے کی مفاہمتی یادداشت کا پاس نہ رکھنے پر رواں سال بھارتی کرکٹ بورڈ پر 70ملین ڈالر ہرجانے کا دعوی کیا ہے اور یہ معاملہ اب آئی سی سی کی کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں