پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت منصوبے شروع کرتی ہے اور اسے پایہ تکمیل تک بھی پہنچاتی ہے: وزیراعظم

 پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت منصوبے شروع کرتی ہے اور اسے پایہ تکمیل تک بھی پہنچاتی ہے: وزیراعظم

جھنگ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ سورماؤں نے 10 سال کے عرصے میں بھی ایسے منصوبے مکمل نہیں کیے جو ان کی حکومت اپنے اس دور میں کیے۔

جھنگ میں 12 سو 63 میگا واٹ کے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ  وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاہے کہ اتحاد بنانے کی ضرورت نہیں حکومت جون میں مدت پوری کرے گی اس کے بعد اگست الیکشن ہوں گے. الائنسز کی ضرورت نہیں ہے حکومت جون میں مدت پوری کرے گی اس کے بعد انتخابات ہونگے اور پاکستان کے عوام فیصلہ کرینگے ہمیں پوری امید ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان کے عوام ہمیں سرخرو کرینگے لیکن مجھے آج یہ نظر آتا ہے کہ ہمارے مخالفین انتخابات سے بھاگنا چاہتے ہیں آج ایک جماعت ہے جو چاہتی ہے کہ ملک میں وقت پر الیکشن ہوں اور وہ مسلم لیگ ( ن ) ہے آئینی ترمیم کی ضرورت تھی.

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہم نے مل کر آئینی ترمیم منظور کی تمام جماعتیں شامل تھیں لیکن جب وہی آئینی ترمیم سینٹ میں گئی تو نہ اس کوووٹ کرنے نہ پی ٹی آئی آتی ہے نہ پی پی آتی ہے نہ چند اور جماعتیں آتی ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے کیا آپ نہیں چاہتے کہ ملک میں الیکشن ہوں کیا آپ نہیں چاہتے کہ ملک ترقی کرے ؟جو لوگ 1999ء سے 2008ء تک ملک پر مسلط رہے آج کوئی ان سے پوچھنے والا ہے کہ آپ نے ملک میں کون سی ترقی دی تھی ؟کون سے منصوبے بنائے تھے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے 20,22 ہفتے باقی ہیں اگر حکومت روزانہ دو منصوبوں کا افتتاح بھی کرے تو منصوبے مکمل نہیں ہونگے؟

میں ان منصوبوں کی بات کر رہا ہوں جو مکمل ہو رہے ہیں میں کاغذی منصوبوں کی بات کررہا۔نواز شریف نے اتنے منصوبے شروع کر دیئے اور ان کی فنڈنگ کر دی ان کی کوشش سے مکمل کیا کہ آج پاکستان کے ہر صوبے میں اربوں روپے اور اربوں ڈالر کی لاگت کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں ہم اپنی کارکردگی پر کھڑے ہیں ہمیں کسی پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں ہمیں کسی کو گالی دینے کی ضرورت نہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مل کر کوشش کریں کہ ملک میں جمہوریت آگے بڑھے اگر سیاسی جماعتیں ہی جمہوریت پر شب خون مارنا چاہیں تو میں ان کا کیا کر سکتا ہوں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سینٹ میں جو بل آیا ہے اس کو پاس کریں تاکہ مقررہ وقت پر الیکشن کمیشن انتخابات کروا سکے الیکشن نہیں ہونگے تو ہر قسم کی قوتوں کو موقع مل سکتا ہے کہ ملک کے اندر انتشار بپا ہو۔