پاکستان کی پہلی میٹرو ٹرین اورنج لائن پر 78 فیصد کام مکمل

لاہور:  لاہورمیں 165 ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے پاکستان کے پہلے میٹرو ٹرین منصوبے اورنج لائن پر   کام جاری ہے اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 27 کلومیٹر طویل اس منصوبے کا 78 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کیس عدالت میں ہونے کے باعث 10تاریخی مقامات پر کام رکا ہوا ہے،منصوبہ مکمل ہونے کے بعد چینی عملہ پانچ سال تک اورنج ٹرین کانظام چلا ئے گا اور ساتھ ہی مقامی عملے کو تربیت بھی دے گا، ممکنہ طور پر اس ٹرین کا افتتاح 23 مارچ 2018 کو کردیا جائے گا۔لاہور میں چین کے تعاون سے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر کام کا آغاز 2015 میں کیا گیا، اس ٹرین کے 26میں سے دو اسٹیشنز انڈرگراونڈ ہیں۔

منصوبے کا78.2 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، ڈیرہ گجراں سے چوبرجی تک پیکج ون کا87.4 فیصد، چوبرجی سے علی ٹان تک پیکج ٹو کا63 فیصد، پیکج تھری ڈپو کا82.4 فیصد جبکہ پیکج فور اسٹیبلینگ یارڈ کا82 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔32 فیصد الیکٹریکل اورمکینیکل کام بھی ہوچکا ہے جبکہ ٹرانزٹ اتھارٹی کیمطابق چین میں میٹرو ٹرین کے تمام 27 سیٹ تیار ہوچکے ہیں اور اب تک ٹرین کے 5 سیٹ لاہور پہنچ چکے ہیں اور جلد ہی مزید 4 سیٹ پاکستان پہنچیں گے۔

ٹرین منصوبے سے تاریخی ورثے کو ممکنہ خدشے کے باعث کیس عدالت میں زیر سماعت رہا ہے اور 10سے زائد مقامات پر کام رکا ہوا ہے۔ ان مقامات میں شالیمار باغ، بدھو کا آوا، چوبرجی، ریلوے اسٹیشن اوردیگر مقامات شامل ہیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی عدالت سے کلیئرنس ملے گی منصوبے پر پرفوری طور پر کام شروع کر دیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں