استعفے کب دینے ہیں فیصلہ اگلے لائحہ عمل میں طے کریں گے، مولانا فضل الرحمان

استعفے کب دینے ہیں فیصلہ اگلے لائحہ عمل میں طے کریں گے، مولانا فضل الرحمان
کیپشن:   استعفے کب دینے ہیں فیصلہ اگلے لائحہ عمل میں طے کریں گے، مولانا فضل الرحمان سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پی ڈی ایم کے فیصلے کل ہو چکے ہیں اور ان فیصلوں پر عمل درآمد بھی ہو گا اور ہماری تحریک کا ہونے والا 13 دسمبر کو جلسہ بہت ہی اہم ہو گا اور اگر حکومت نے ایک راستہ روکا تو پھر دوسرا راستہ بنائیں گے اس کے باوجود بھی اگر حکومت نے دوسرا راستہ روکا تو پھر ہم تیسرا راستہ بنا لیں گے لیکن اپنے کئے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ استعفے کب دینے ہیں اس کا فیصلہ اگلے لائحہ عمل میں طے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی میں پہیہ جام اور اسلام آباد مارچ کا شیڈول طے ہو گا۔ حکومت والے کہتے ہیں جلسہ نہیں روکنا تو پھر دوسری طرف اوچھے ہتھکنڈے کیوں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ حکومت مینار پاکستان کو ڈیم بنا رہی ہے تاکہ جلسہ نہ ہو سکے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا اگر ان اسمبلیوں سے سینیٹ کے الیکشن ہوئے تو وہ بھی جعلی ہوں گے لیکن ہم نے جمہوریت کی بقا اور آئین کی بات کرنی ہے ۔ 

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل گیارہ جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور ہم عمران خان اور سلیکٹڈ حکومت کو گھر بیجھنے کے لئے باہر نکلے ہیں اور اب اس مشن کو مکمل کر کے رہیں گے۔ پیپلز پارٹی نے ہر آمرانہ دور کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی حکومت کے خلاف تمام آئینی اور قانونی راستوں کو استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاہم جلسے بھی کریں گے اور سول سوسائٹی سے بھی رابطہ کریں گے اور احتجاج بھی کریں گے۔سی اسی سی میٹنگ میں اعتزاز احسن کا موقف لیں گے اور ان کا بھی موقف ہو گا جو پاکستان پیپلز پارٹی کا ہو گا۔ 

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا سب کا متفقہ فیصلہ ہے جو مولانا فضل الرحمان نے کیا ہے اور پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اپنے استعفے انہیں جمع کروائیں گے جبکہ مینار پاکستان میں جلسہ لازمی ہو گا اور اس کے متعلق کوئی دو رائے نہیں ہے۔

انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت پر الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کے سابق منصوبے چل رہے ہیں جس پر یہ تختی لگا رہے ہیں۔