پاکستان مسئلہ کشمیر سے متعلق عالمی سطح کے پارلیمانی اتحاد کی کوشاں ہے، وزیر خارجہ

پاکستان مسئلہ کشمیر سے متعلق عالمی سطح کے پارلیمانی اتحاد کی کوشاں ہے، وزیر خارجہ
کیپشن:   پاکستان مسئلہ کشمیر سے متعلق عالمی سطح کے پارلیمانی اتحاد کی کوشاں ہے، وزیر خارجہ سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نائیجر میں مسئلہ کشمیر پر متفقہ مذمتی قرارداد انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور قرارداد میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس گٹھ جوڑ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کر رہا ہے اور کشمیر سے متعلق عالمی سطح کے پارلیمانی اتحاد کیلئے کوشاں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا برطانوی پارلیمنٹ میں بھی کشمیر اور کشمیریوں کیلئے آواز بلند ہوئی اور بھارتی جارحیت کیخلاف بیرون ملک مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 500 روز سے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں لوگ بھارتی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں اور غیر انسانی لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے لوگ سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ 

اس سے پہلے شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خدشہ ہے کہ بھارت اپنی داخلی صورت حال اور اندرونی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی ناٹک رچا سکتا ہے کیونکہ اس وقت بھارت کی معیشیت بُری طرح سے متاثر ہے اور کسان پورے بھارت میں سراپا احتجاج ہیں جبکہ اپوزیشن، ٹریڈ یونینز، وکلا اور طلبا بھی احتجاج میں شامل ہو چکے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کافی بگڑ چکی ہے اور گزشتہ دنوں ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے زبردست احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور دوسری  طرف پاکستان دنیا کی پارلیمینٹرینز جمہوریتوں کی توجہ بھارت کے جارحانہ اقدامات کی طرف بھی دلا رہا ہے۔ بھارت اس وقت ہوش کھو بیٹھ چکا ہے اور ان کے ذمہ داران دھمکی آمیز زبان استعمال کر رہے ہیں اور بھارت اپنے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔