جاپان میں خاتون کو جنسی ہراساں کرنے والے کا عدالت میں انوکھا جواب

جاپان میں خاتون کو جنسی ہراساں کرنے والے کا عدالت میں انوکھا جواب

ٹوکیو : ہیرو شیما میں ایک 29سالہ خاتون ایک عجیب و غریب مقدمہ لے کر مقامی عدالت میں جا پہنچی ۔ جس میں اس نے ٹرین کے سفر کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ کا احوال بتا کر ملزم کو سزا دلوانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے عدالت میں ایسا موقف اختیار کیا کہ عدالت کو اسے معمولی سزا دے کر ہی جان چھڑانی پڑی۔ ہیرو شیما کے مرکزی علاقے کی رہائشی یوئی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ ناگاساکی سے ٹرین پر سفر کر کے ہیروشیما آرہی تھی ۔


ٹرین پر نشست دستیاب نہ ہونے کے باعث اسے کھڑا ہو کر سفر کرنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔اسکے اردگرد بھی کافی مسافر کھڑے تھے اور خاصا رش تھا۔ عین اسی وقت ایک نوجوان اس کے عین پیچھے آن کھڑا ہوا اور رش کا فائدہ اٹھا کر اپنے ہاتھ سے خاتون کی نچلی کمر کو چھونے لگا۔ خاتون کا موقف تھا کہ نوجوان کی یہ حرکت اس قدر واضح تھی کہ وہ ٹرین کے ہچکولوں کے ساتھ اس کی اس دانستہ چھیڑ چھاڑ کو واضح محسوس کر سکتی تھی اور خاصی الجھن میں مبتلا تھی۔

اس نے اس دوران پیچھے مڑ کر اس نوجوان کو گھورنے کی کوشش کی لیکن نوجوان نے ڈھٹائی سے اپنی شرمناک سر گرمی جاری رکھی۔ یہاں تک کہ خاتون نے پولیس گارڈز کو بلا کر اس کی شکایت کر دی جس پر نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ عدالت نے خاتون کا موقف سننے کے بعد ملزم سے اس حرکت کی وجہ کے بارے میں استفسار کیا تو نوجوان برجستہ بولا کہ اس کی اس حرکت کا مقصد کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں بلکہ خاتون کی پینٹ کی عقبی جیب میں پڑا ہوا اس کا بٹوہ چرانا تھا۔ جو کہ جیب میں پھنسا ہونے کی وجہ سے اسے نکالنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔

اس پر عدالت نے ملزم کا موقف درست مان کر اسے چوری کے اقدام پر چند ہفتے قید اور پانچ سو  ین جرمانہ کی سزا سنائی۔ خاتون اپنے موقف پر ڈٹی رہی کہ وہ شادی شدہ تھی اور ملزم کی چھیڑ چھاڑ سے اس کےلئے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی نیت کیا ہے لیکن عدالت نے اپنا فیصلہ عدم ثبوت کی بنیاد پر برقرار رکھا ۔جاپان میں خواتین کو چھیڑنے کی سزا چھ ماہ قید اور پانچ ہزار  ین جرمانہ ہے لیکن مجرم اپنی چالاکی اور حاضر دماغی کی وجہ سے بڑی سزا سے بچ گیا۔