بھارت میں گزشتہ سال 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ ہیک ہوئے جس سے عوام کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا

بھارت میں گزشتہ سال 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ ہیک ہوئے جس سے عوام کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا

 بھارت میں گزشتہ سال 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ ہیک ہوئے جس سے عوام کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا

نئی دلی: بھارت میں گزشتہ سال 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ ہیک ہوئے جس سے عوام کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔


غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں کام کرنے والی مالیاتی کمپنی نے جاپانی کمپنی سے صارفین کا ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک خاص سمجھوتہ کیا تاہم اس عرصے میں 32 لاکھ صارفین کے ڈیبٹ کارڈ ہیک ہوگئے جسے اب تک سائبر کرائم کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جارہا ہے۔

جاپانی کمپنی کے مینیجر نے اس واقعے پر متاثرہ صارفین اور بینک سے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینکس اور عوام کو جو تکلیف پہنچی اس پر پچھتاوا ہورہا ہے لیکن اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آئندہ اس قسم کے فراڈ کو روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا یہ صرف اس لیے ہوا کہ ہم مناسب سیکیورٹی اقدامات کرتے ہوئے کمپنی کو بین الاقوامی سطح کے معیارات دینا چاہتے تھے لیکن اس میں کچھ کوتاہیاں سامنے آئیں اور ڈیبٹ کارڈ تبدیلی یا اے ٹی ایم پن کی تبدیلی کے دوران ہیک ہوئے۔

دوسری جانب متاثر ہونے والی بھارتی کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیبٹ کارڈز کے اس بحران کے باعث اب تک 600 سے زائد کسٹمرز ایک کروڑ 30 لاکھ روپے چوری ہونے کی شکایت درج کرواچکے ہیں۔

 گزشتہ سال بھارت میں لاکھوں کی تعداد میں ڈیبٹ کارڈز ہیک ہونے کے بعد لوگوں کے کروڑوں روپے نکال لیے گئے تھے جس سے عوام شدید غم وغصے کا شکار تھے۔