امریکہ تائیوان کے ساتھ تبادلوں کے بل پرنظرثانی بند کرے، چین

امریکہ تائیوان کے ساتھ تبادلوں کے بل پرنظرثانی بند کرے، چین

بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے کہا کہ ایک چین کا اصول چین امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد ہے۔ اس لیے چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کے ساتھ تبادلوں کے بل پرنظرثانی کا سلسلہ بند کریں۔ ایک اطلاع کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے حال ہی میں تائیوان کیساتھ تبادلوں کے بل کی نظرثانی کی ہے اور اس کی منظوری دی ہے۔اس میں امریکہ اور تائیوان کے اعلی سطح کے تبادلوں پر امریکہ کی پابندی کو ختم کرنے کا حصہ بھی شامل ہے۔اس بل کی امریکی پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری دی گئی ہے۔


چینی ترجمان نے اس حوالے سے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ تائیوان سے متعلق امور سے اچھی طرح نمٹے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات اور خطے کی صورتحال کے استحکام کا تحفظ کیا جاسکے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام کے باعث آبنائے تائیوان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اس لیے امریکہ کو یہ بل واپس لینا چاہیے۔

بیجنگ جمہوری تائیوان پر یقین رکھتا ہے۔ کہ وہ ایک چین کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ اور اس نے اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے کبھی طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ امریکہ کے تائیوان کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں ہیں لیکن وہ اسے اسلحہ فراہم کرتا ہے، اس لیے چین باقاعدگی سے کہتا رہا ہے کہ تائیوان چین امریکہ تعلقات میں ایک حساس مسئلہ ہے۔

 ترجمان نے کہا اگرچہ بل کی شقیں قانونی طور پر کسی کو پابند نہیں کرتی لیکن یہ ایک چین کے اصول  کی خلاف ورزی ہے۔ اگر یہ بل سینٹ نے منظور کرلیا تو اس سے چین اور امریکہ کے تعلقات شدید طور پر  اور  آبنائے تائیوان میں صورتحال متاثر  ہو  گی۔  چین اس کی مکمل طور پر مخالفت کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ایک چین کااصول ہی چین امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد ہے۔