وفا اور زعمِ وفا

Dr Azhar Waheed, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

انسان عجب مخلوق ہے — جب خرچ کرنے پر آتا ہے تو سب کچھ خرچ کر دیتا ہے— حدِ اعتدال سے گزر جاتا ہے— جب کسی پر مائل ہوتا ہے تو اپنی اوقات سے بڑھ کر وعدے کر لیتا ہے، جب نبھانے کی باری آتی ہے تو یہی انسان اپنے وعدوں سے ایسے منہ موڑتا ہے جیسے وعدہ کرنے کے ہجے کرنا بھی نہ جانتا ہو۔ اس ظرف کو کم ظرف ہی کہا جا سکتا ہے۔ انسان کا یہ رویہ صرف انسان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنے خالق کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جب یہ اپنے خالق سے وعدے کرتا ہے تو اس میں بھی حد سے گزر جاتا ہے— اپنے وقت، وجود اور وسائل پورے کے پورے اس کے نام اور کام کے لیے وقف کرنے کا وعدہ اور دعویٰ کرتا ہے، لیکن جب خرچ کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو اپنی ذات کو فوقیت دے دیتا ہے— کام و دہن کے اغراض کو مقدم ٹھہرا لیتا ہے اور سب مقدس حوالے یکسر فراموش کر دیتا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ انسان جب اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ ایسی کم ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے تو شاید کچھ ججھک بھی محسوس کرتا ہے لیکن اپنے رب کے ساتھ بے وفائی بے دھڑک کرتا چلا جاتا ہے۔ خالقِ کائنات کا شکوہ بجا ہے: اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جیسا کہ قدر کرنے کا حق تھا۔

اپنے خالق و مالک کیساتھ انسان کا تعلق تنہائی میں دریافت ہوتا ہے اور تنہائی ہی میں پروان چڑھتا ہے۔ جب وہ خود سے ہم کلام ہوتا ہے تو اس دو میں تیسرا وہی ہوتا ہے۔ وہ تنہائی میں وعدہ کرتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے، یامالک! تیری عطا ہے، تیری امانت ہے، اسے میں تیرے نام پر وقف کرتا ہے، میں اس کا امین ہون، اصل مالک تُو ہے — بس تُو ہی تُو ہے— تُو اس مال، منصب اور صلاحیت میں اضافہ کر دے، اس میں برکت ڈال دے، بس یہ مال تیرے ہی نام پر خرچ ہو گا، یہ منصب تیری امانت ہے، تیری مخلوق کی خدمت کے کام آئے گا اور یہ صلاحیت تیرے ہی دین کی سربلندی کے لیے استعمال ہو گی۔ یہ ہیں انسان کے وعدے، اس کے دعوے اور اس کا زعمِ وفا!! دعوے اور حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ حقیقت تب کھلتی ہے جب وقت کا پردہ سرکتا ہے، جب محفل تنہائی میں بدلتی ہے اور جب انسان ’’خود یا خدا‘‘ ایسے عظیم خیال کے دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے، جب قول نبھانے کا موسم آتا ہے، جب عمل کا سمے اترتا ہے— جب وقتِ قیام آتا ہے تو یہ نادان سجدے میں گر جاتا ہے — سجدہ خواہ توبہ کا ہو، قیام سے افضل نہیں۔ قیام کلام کا شرف عطا کرتا ہے، سجدہ یک طرفہ سرگوشی ہے۔ سچ تو ہے کہ اللہ ہی بندے سے وفا کرتا ہے، بندے کا ’’عقیدہ‘‘ ازل سے بے وفائی ہی رہا— اسی کارن ’’ظلوماً جہولا‘‘ کہلایا۔ ایک ازلی جفاکار ابدی وفا شعار سے دوستی کی پینگیں بڑھانا چاہتا ہے— ذرا اس کی ہمت تو دیکھو—

دل اٹکیا بے پروا دے نال

انسان کا دعویٰ ہے کہ وہ وفا شعار ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جیسا جفا کار بھی کوئی اور نہیں۔ تاریخ کے ہر موڑ پر، زندگی کے ہر مرحلے پر، وقت اور وسائل کی تقسیم کے ہر موقع پر اس نے بے وفائی ہی کو اپنا شعار بنایا، جفا کاری گویا اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ جوں ہی خرچ کرنے کا موقع آتا ہے، اسے کفایت شعاری کا سبق یاد آ جاتا ہے، جب ٹھہر جانے کا وقت ہوتا ہے تو یہ جانے لگتا ہے، جب اسے ساکن ہونے کا کہا جائے، تو یہ حرکت نہیں بلکہ حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے سکون ملتا ہے نہ گوشہ قربت میں اسے سکونت ہی مسیر آتی ہے!!

دراصل انسان کو اپنی اصل یاد نہیں رہتی۔ یہ ماضی کو نہیں دیکھتا، بلکہ مستبقل کی ایک موہوم شبیہ دیکھ کر اپنا قد کاٹھ ماپنے لگتا ہے۔ اگر یہ ماضی کے حوالے سے حال کو دیکھتا تو خوش ہوتا، خوش حال ہوتا، بلکہ خوش خیال ہوتا — لیکن وہ تو ممکنہ مستقبل کے حوالے سے اپنے حال کا جائزہ لیتا رہتا ہے اور یوں ناخوش و بیزار رہتا ہے۔۔۔۔ حال سے محروم، خیال سے تہی رہتا ہے۔ خیال لمحہ حال میں وارد ہوتا ہے، اگر ہم حال میں موجود نہ پائے گئے تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک آدمی سو رہا ہو اور اس کے سوتے سوتے بارش برس چکی ہو۔ بس! یہ جلدی میں ہے، یہ جلد از جلد اپنے مستقبل کی آخری سرحد تک پہنچنا چاہتا ہے— اور بھول جاتا ہے کہ مستقبل کی آخری سرحد کے فوراً بعد موت کی حد شروع ہو جاتی ہے۔ زندگی کے سارے مراحل طے کرنے کے بعد اسے موت کا مرحلہ بھی درپیش ہو گا۔ اگر زندگی کا آخری مرحلہ بھی اس کے پیشِ نظر رہے تو اس کی رفتار آہستہ اور شائستہ ہو جائے۔

بہرطور بات ہو رہی تھی انسان کے بلند بانگ دعووں اور وعدوں کی — انسان رہتا زمین پر ہے لیکن زمین پر رہنا نہیں چاہتا۔ کوئی چیز، کوئی یاد،کوئی آدرش اسے بے کل کیے رکھتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اس کا جسم زمینی ہے اور اس کی روح آسمانی، تہہ در تہہ مشکل یہ کہ یہ آسمان کا سفر بالوجود کرنا چاہتا ہے۔ زمین پر رینگنے والا قول کا بندھا یہ مٹی کا مادھو آسمانوں پر پرواز کرنا چاہتا ہے۔ روح مجرد ہے، جسم مرکب۔ اسے کوئی ایسی ترکیبب نہیں سوجھتی جو اس کے کثیف مرکبات کو لطیف مجرد فضا میں محوِ پرواز کر سکے۔ حضرتِ انسان کے پاس ایک فوری حل یہ دستیاب ہوتا ہے کہ وہ قول قرار کر لے، عالمِ جسم میں ہوتے ہوئے روح کے تقاضے نبھانے کا قول کر لے۔ یہ قول ادا کرنے کے بعد پھر اسے قرار نصیب نہیں ہوتا۔ روح اور بت کا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی بت پرستی غالب آتی ہے اور کبھی روح کی محراب روشن ہو جاتی ہے۔

روح اور جسم کے تقاضوں میں اعتدال کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ اعتدال جب عدل کا خیال رکھے بغیر اختیار کیا جائے تو بات حد اعتدال سے نکل جاتی ہے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھا جائے۔ روح کا مقام بلند ہے، اسے اور اس کے تقاضوں کو ترجیحات کے باب میں بلند تر مقام پر رکھا جائے، جسم عارضی ہے، اس کے تقاضے بھی عارضی ہیں، اسے اس کے عارضی محل میں رکھا جائے۔ جسم کبھی روح کا کفو نہیں بن سکتا، اس لیے روح اور جسم کے تقاضوں میں برابری کا سوال کھڑا نہ کیا جائے۔ جب روح اور روح کے تقاضے اپنے مقام پر قائم ہو جائیں گے تو جسم اور جسم کے تقاضے از خود اپنی حیثیت اور مقام پر آ جائیں گے۔ جسم کبھی اتنا بلند قامت نہیں ہوتا کہ روح کی برابری کرنے لگے۔ جسم اپنی حد اور قد میں رہے۔ روح کو وجود کے محراب میں کھڑے ہو کر امامت کرنا ہی جچتا ہے! امام کا مقام اور ہے، مقتدی کا مقام اور!! مقتدی اپنی صف میں رہے، ترتیب اور تہذیب کی صفیں پھلانگ کر امام کے پہلو میں جا کھڑا نہ ہو۔

جب نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو دل میں ہر چیز کا تصفیہ ہو جاتا ہے— کون سی بات کہاں سے تعلق رکھتی ہے اور کس بات سے کتنا تعلق رکھنا ضروری ہے — ہر حکم صاف صاف واضح ہو جاتا ہے۔ قیام کے وقت سجدہ نہیں ہو گا اور سجدے کی حالت میں سرِمُو سر نہیں اٹھایا جائے گا۔ ہر طریق اور طریقہ دور دور تک واضح ہو جاتا ہے۔ دل کے سودے پر عقل مزاحم نہیں ہوتی اور عقل کے میزان میں جذبات خلل نہیں ڈالتے۔ تزکیہ پاکیزگی ہے، یہ پاکیزگی فکر سے شروع ہوتی ہے اور عمل پر منتج ہوتی ہے۔ پاکیزگی کا وعدہ اور دعویٰ اور چیز ہے، پاکیزگی کا مقام مقامِ دگر۔ وہ ذات سبحان ہے، پاک ہے— پاکیزہ نفوس کو پیدا کرتی ہے۔ جس نفس میں پاکیزگی کی طلب پیدا ہو جاتی ہے وہ پاکیزہ نفوس کا طالب بن جاتا ہے۔ نفس ہی نفس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکیزگی حاصل نہیں ہوتی، پاکیزگی عطا ہوتی ہے۔ انسان کے ذمے طلب ہے، وہ اپنی طلب کا کاسہ تھامے رکھے۔ مایوس نہ ہو!! مایوسی کفر کی طرف لے جاتی ہے، امید ایمان کی طرف!! 

درِ نبیؐ پر پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا

کبھی تو قسمت کھلے گی میری، کبھی تو میرا سلام ہو گا

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے، جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رحمت للعالمینؐ سے تعلق میں کمزور نہ ہونا— درِ رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ رحمت اللعالمینؐ کے در سے ٹیک لگائے رکھنا— مدینے والے کے ہاں شفا بھی ہے اور شفاعت ہے— گناہوں کے مرض سے شفا— اور جرمِ گناہ کی سزا سے رہائی — شفاعت!! ہمارا ہر روز ہی روزِ حساب ہے — اور روزِ حساب شافعِؐ روزِ جزا ہی سزا سے بچاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں