قدیم مصری راز سے پردہ اٹھ گیا

جدید تحقیق نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ قدیم مصری اقوام اپنے مردوں کو مٹکوں میں بند کرکے کیوں دفن کیا کرتے تھے

قدیم مصری راز سے پردہ اٹھ گیا

سڈنی : جدید تحقیق نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ قدیم مصری اقوام اپنے مردوں کو مٹکوں میں بند کرکے کیوں دفن کیا کرتے تھے۔ اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ تدفین کا یہ طریقہ محض غریبوں میں رائج تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔سڈنی کی میک کیوری یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرمصریات ین ٹریسٹنٹ اور حیاتیاتی آرکیالوجسٹ رونیکا پاور نے ایک جدید تحقیق مرتب کی ہے ۔ ان کے مطابق مٹکوں میں صرف غریب افراد ہی اپنے بچوں کو دفن نہیں کرتے تھے بلکہ امیروں میں بھی یہ عمل رائج تھا اور اس کی باقاعدہ وجہ تھی۔ تحقیق میں دریائے نیل کے کنارے 46 مدفنوں سے برآمد ہونے والے نمونہ جات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کی عمریں 3300 قبل مسیح سے 1650 قبل مسیح کے درمیان ہیں۔ تحقیق کے دوران بچوں کی 746 باقیات کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 338 کو باقاعدہ لکڑی کے تابوت میں دفن کیا گیا ہے جبکہ 329 کی تدفین مٹکے میں کی گئی ہے ۔


ایک گورنر کے مقبرے سے ایک نوزائیدہ بچہ مٹکے میں حنوط شدہ حالت میں ملا جسے سونے کے پترے میں لپیٹا گیا تھا جبکہ دیگر مٹکوں سے بھی سونا’ ہاتھی دانت’ قیمتی کپڑے اور کئی دیگر قیمتی اشیا ملی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مٹکے کا استعمال غربت کے سبب نہیں تھا۔مٹکوں میں تدفین کرنے کیلئے اکثر اوقات میت کو ایسے ہی مٹکے میں رکھا جاتا تھااور کچھ قبروں سے برآمد ہونے والے مٹکوں کو میت رکھنے کے لیے کاٹا بھی گیا تھا،سائنسدانوں نے طویل تحقیق کے نتیجے میں یہ دلیل قائم کی ہے کہ قدیم مصر کے رہنے والے مٹکے میں تدفین اس لیے کرتے تھے کہ یہ رحمِ مادر کی صورت سے مشابہہ ہے اور مٹکے میں تدفین حیات بعد از موت کی جانب اشارہ کرتی ہے ’ سائنسدانوں نے یہ نتائج مٹکوں پر بنے نقش و نگار اور دیگر شواہد پر عرق ریزی کے بعد مرتب کیے ہیں۔