حلب: شہر کو کھنڈرات میں بدل کرفتح کے شادیانے بجانے والے شامی صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب پر حملہ جائز تھا۔

فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے شامی صدر کا کہنا تھا کہ بعض اوقات یہ قیمت بھگتنا پڑتی ہے۔ لیکن انجامِ کار لوگوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے رہا کر لیا گیا ہے۔برطانیہ میں قائم آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حلب پر غلبے کی جھڑپوں میں گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً ساڑھے 21 ہزار عام شہری مارے گئے ہیں۔

بشار الاسد نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت قازقستان میں امن مذاکرات میں ’تمام مسائل‘ پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔اپنی صدارت کے حوالے سے بشارالاسد کا کہنا تھا کہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ملک کا نیا آئین بنایا جاسکتا ہے اور عوام ہی ملک کے نئے صدر کو منتخب کرسکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں