ٹرمپ کی ایران پر مزید پابندیوں کی دھمکی، امن کی بھی پیشکش

ٹرمپ کی ایران پر مزید پابندیوں کی دھمکی، امن کی بھی پیشکش
جو امن چاہتا ہے امریکا اس کے ساتھ امن کے قیام کے لیے تیار ہے، ٹرمپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: عراق میں امریکی ایئر بیس پر ایران کے میزائل حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حملے میں کوئی امریکی یا عراقی فوجی ہلاک نہیں ہوا تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ حملے میں فوجی اڈے کو معمولی نقصان پہنچا۔


ایران کو امن کی پیشکش کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو امن چاہتا ہے امریکا اس کے ساتھ امن کے قیام کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر نے داعش کے خاتمے کے لیے بھی ایران کو مل کر کام کرنے کی پیشکش کر دی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی نے عراق میں موجود امریکیوں پر حملے کے احکامات دیئے تھے۔ اس لیے امریکا نے اُنہیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی امریکا پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے لیکن ہم نے انہیں روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ تین ماہ پہلے داعش کے سرغنہ بغدادی کو ہلاک کیا گیا اور وہ دوبارہ سے داعش کو منظم کر رہا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں 2 امریکی ڈرون بھی تباہ کیے، ایران نے یمن، لبنان، افغانستان اور عراق میں تباہی مچائی، ایران اپنی ایٹمی سرگرمیاں روکے اگر ایران تشدد پھیلاتا رہا تو خطے میں امن نہیں آسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج ان کی قیادت میں آج جتنی مضبوط ہے اور اس سے پہلے کبھی نہیں تھی، فوج کے بجٹ میں مزید اضافہ کیا گیا ہے، ہمارے میزائل بڑے، طاقت ور ، تیز ترین اور ہدف پر لگنے والے ہیں، اس کے علاوہ جدید ترین ہائپر سانک میزائل بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

امریکی صدر نے ایرانی عوام اور رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا ایک بہترین مستقبل چاہتے ہیں، جس کے آپ حقدار ہیں جس میں خوشحالی آپ کے گھر میں ہواور دنیا کے ساتھ ہم آہنگی ہو۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنی ایٹمی سرگرمیاں روکے، جب تک میں صدر ہوں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔