ایک انقلابی درویش کی کہانی

Hamid Mir, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

یہ ایک ایسے درویش کی کہانی ہے جسے عوامی شاعر حبیب جالب نے قافلہ حق کا سالار قراردیا،صحافت پر پابندیوں کے خلاف کئی کتابیں لکھنے والے ضمیر نیازی نے اُسے مرد حُرلکھا اور اپنے دور کے عظیم انقلابی دانشور پروفیسرکرارحسین نے اسے شہید صحافت کے مقام پرفائز کردیا۔یہ درویش جب زندہ تھا تو آمریت کے حامی ملاّاور ضمیر فروش اہل صحافت اُس پر کفر کے فتوے لگاتے تھے اور جب دنیاسے چلا گیا تو اپنے دشمنوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا کیونکہ اس نے اپنے زندگی میں جو کہا اور لکھا وہ اسکی موت کے بعد آہستہ آہستہ سچ ثابت ہوتا رہا لہٰذا اس کی جسمانی موت کے کئی سال بعد بھی کچھ سیاسی وصحافتی بو نے اس درویش پر وطن دشمنی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں کیونکہ اس کے نظریات اور فکر اب بھی زندہ ہے۔ اس مرد حُر اور شہید صحافت کا نام پروفیسر وارث میر ہے۔اُن کا انتقال 9جولائی 1987کو لاہور میں ہوا اور انکی وفات کے 33برس کے بعد 9جون 2020کو پنجاب اسمبلی نے لاہور میں ایک قرارداد کے ذریعہ پروفیسر وارث میر کو ان کی گرانقدر جمہوری اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کیا۔ جب اس درویش کا انتقال ہوا تو پاکستان پر جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ حکومت تھی۔وارث میر کے پاس اپنے قلم کے سوا کوئی دوسرا ہتھیار نہ تھا۔وہ ایک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف قلم کو بطور ہتھیار استعمال کرتا تھا۔ کبھی اس کی تحریر اخبار میں شائع ہو جاتی کبھی روک لی جاتی۔پنجاب یونیورسٹی لاہور میں صحافت کے اس 

استاد کواپنی فکر پر کوئی پابندی قبول نہ تھی۔وہ تمام پابندیوں کو روندتے ہوئے کسی سیمینار یامذاکرے میں جا پہنچتے اور اپنے جوش خطابت سے فوجی ڈکٹیٹر کے رعب ودبدبے کی دھجیاں بکھیردیتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب پروفیسر وارث میر کا انتقال ہوا تو ایک اور درویش پروفیسر کرارحسین نے لکھا۔۔۔’’حریت فکر کا مسافر چیخ چیخ کر بحث کرتا، لڑتا جھگڑتا، دوسروں کواپنے اوپر ہنساتاہوا، ظنز کے نشتر برداشت کرتاہوا، بہت سے دوست دشمن بناتاہوا، دشمنوں کے کمینے حملوں سے زخمی ہوتاہوا،  رورو کر ہنستا ہوا آخری دم تک لڑتاہوا مارا گیا۔ اس سے پہلے اس کے جگر کو نوچا جا چکا تھا مگر افسوس اس وادی میں جہاں اس کے جگر کو نوچا گیا وہا ں عقاب نہیں بستے محض چیل اور کوّے رہتے ہیں۔“

پروفیسر وارث میر کا کیا نظریہ تھا؟جنرل ایوب خان کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی بنائی تو وارث میر کو پیپلز پارٹی کا حامی سمجھا گیا، بھٹو وزیر اعظم بنے تو انہیں جماعت اسلامی کا حامی قرار دیا گیا،بھٹو کی حکومت ختم ہوئی اور جنرل ضیاء نے اقتدار پر قبضہ کیا تو وارث میر کو اسلام دشمن قراردیدیا گیا کیونکہ وہ جنرل ضیاء کے ناقد تھے۔حقیقت میں وہ نہ تو الٹرا لیفٹسٹ تھے، نہ الٹرارائٹسٹ تھے۔ علامہ اقبال ؒ اور قائد اعظم ؒکی طرح ایک روشن خیال، ترقی پسند مسلمان تھے اور پاکستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن تصّور کرتے تھے۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے ریفرنڈم اور غیر جماعتی انتخابات کو غیر اسلامی قراردیکر فوجی ڈکٹیٹر کواپنا دشمن بنالیا۔اس آمر وقت نے گورنر ہاؤس لاہور میں انہیں بلا کر سب سے پہلے یہ پوچھا کہ آپ کی ذات کیا ہے؟وارث میر نے بتایا کہ میں کشمیر ی النسل ہوں لیکن پہلے مسلمان اور پاکستانی ہوں، جنرل ضیاء انہیں اپنا ایڈوائزر بنانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔یہ معذرت مجید نظامی کی موجودگی میں کی گئی۔ جنرل ضیاء کے لیے بڑی مشکل پیدا ہوگئی تھی پروفیسر وارث میر اس کے نام نہاد شریعت بل کی مخالفت شرعی اصولوں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتے،وہ ضیاء کے صدارتی نظام کی خواہش کو مسترد کرنے کے لیے قائد اعظمؒ کے نظریات کا سہارا لیتے، اجتہاد کی بات اور ملّائیت کی نفی علامہ اقبالؒ کے اشعار کی روشنی میں کرتے، جب جنرل ضیاء الحق عورتوں کے حقوق پر حملہ آور ہوگیا تو پروفیسر وارث میر سرکاری ملازم ہونے کے باوجود مال روڈ لاہور پرعورتوں کے جلوس میں پہنچ گئے اور حبیب جالب کے ہمراہ پولیس کی لاٹھیوں کا مزہ بھی چکھا۔اسی لئے عاصمہ جہانگیر نے وارث میر کو عورتوں کے حقوق کامرد مجاہد قراردیا۔

2013 میں انہیں حکومت پاکستان نے ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ہلال امتیاز سے نوازا۔اسی سال انہیں حکومت بنگلہ دیش نے 1971ء کے فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر فرینڈز آف بنگلہ دیش کا ایوارڈ دیا۔ حکومت بنگلہ دیش نے یہ ایوارڈ فیض احمد فیض،حبیب جالب،غوث بخش بزنجو، ملک غلام جیلانی اور دیگرکئی شخصیات کو بھی دیالیکن حیرت انگیز طور پر سب سے زیادہ پراپیگنڈہ وارث میر کے خلاف کیا گیا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ 1971ء میں پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء نافذ تھا۔ وارث میر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں استاد تھے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف ہونے والی فوجی آپریشن کی مخالفت کی لیکن سینسر شپ کی وجہ سے ان کے تمام کالم اخبارات میں شائع نہ ہو پائے۔1971 میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے دیکھے تو وہ بطور ایڈوائیزر سٹوڈنٹس افئیرز جامعہ پنجاب طلبہ یونین کا ایک وفد لیکر ڈھاکہ پہنچ گئے۔ انہوں نے قائد اعظمؒکا ایک سچا پیروکار بن کر مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان پل بننے کی کوشش کی۔ وارث میر نے دورہ مشرقی پاکستان کے دوران جو دیکھا اس کی روشنی میں اربابِ اختیار کو وارننگ دی کہ پرانی غلطیاں دوبارہ نہ دہراؤ۔ وارث میر کی اس حوالے سے کسی تحریر میں پاکستان کی مخالفت نہیں کی گئی۔کہیں بھی قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ کے نظریات کی نفی نہیں کی گئی لیکن دشمنوں نے انہیں میر جعفر اور میر صادق قراردینا شروع کردیا۔ یہ دشمنوں کی اخلاقی پستی تھی کہ وہ ایک ایسے شخص کو پاکستان کا دشمن قراردیتے رہے جو تمام عمر پاکستان کے دشمنوں سے لڑتارہا۔

وارث میر کی کہانی دراصل ایک ایسے شہید صحافت کی کہانی ہے جو اسلام، پاکستان، قائد اعظم ؒ، علامہ اقبالؒ، جمہوریت اور عوام کے دشمن آمروں اور مُلّاؤں سے دیوانہ وار لڑتاہوا شہید ہو گیا اور شہیدکبھی مرتے نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔