وفا قی بجٹ کے اثرا ت اور مہنگائی کی لہر

Dr Ibrahim Mughal, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

پہلے تو یہ ایک موا زنہ ملا حظہ فر ما ئیں:

روٹی 8 روپے۔۔۔ وزیراعظم  چور، روٹی 15 روپے۔۔وزیراعظم ایماندار؟؟ انڈا 8 روپے۔۔ وزیر اعظم چور، انڈا 13 روپے۔۔ وہ بھی گرمی میں۔۔۔وزیر اعظم ایماندار؟؟۔ پیٹرول 70 سے 90 روپے لیٹر۔۔۔ وزیر اعظم چور، پیٹرول 113 روپے۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟چینی 5 سال تک 55 روپے کلو۔۔۔وزیر اعظم چور، چینی 100 روپے کلو۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟ گھی 160 سے 170 روپے کلو۔۔۔ وزیر اعظم چور، گھی 280 سے 300 کلو۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟ ادویات کم۔ قیمت اور ہسپتالوں میں فری۔۔۔ وزیر اعظم چور، ادویات کی قیمتوں میں 500 سے 800 فیصد تک اضافہ۔۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟ آٹا 30 سے 35 روپے کلو۔۔۔ وزیر اعظم چور، آٹا 65 سے 70 روپے کلو۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟ بجلی کا یونٹ 8 روپے۔۔۔ وزیراعظم چور، بجلی کا یونٹ 18  روپے۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟۔ دالیں.. 180 روپے تک کلو۔۔۔ وزیر اعظم چور، دالیں۔۔۔ 300 روپے تک کلو۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟۔ ڈالر 80 سے 100 روپے کا۔۔۔ وزیر اعظم چور، ڈالر 150 سے 165 روپے کا۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟۔ سونا فی تولہ 60 سے 80 ہزار۔۔۔ وزیر اعظم چور، سونا 1 لاکھ سے 1 لاکھ 30 تک۔۔۔۔ وزیر اعظم ایماندار؟؟۔ 70سالہ ملکی تاریخ کا ٹوٹل قرضہ 30 ہزار ارب۔۔۔ جس میں موٹر ویز بنی، ایٹم بم بنا، بجلی کے کارخانے لگے، ضربِ عضب لڑی گئی، ردالفساد لڑی گئی، کراچی کا امن بحال ہوا، پورے ملک میں موٹر ویز، فلائی اورز، سڑکوں کے جال بچھائے گئے، 4 میٹرو بس چلیں۔۔۔ اور بھی بہت سے میگا پروجیکٹ بنے۔۔۔ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم۔۔ اور بھی بہت کچھ ہوا ان قرضوں کا۔۔۔ مگر  وزیر اعظم چور۔۔۔ اور اس حکومت نے ڈھائی سالوں میں 13 ہزار ارب کا قرضہ لے لیا ہے۔۔۔ مگر کوئی ایک میگا پروجیکٹ۔۔۔ کچھ بھی نظر نہیں آیا۔۔ صرف وعدے، دعوے اور بڑی بڑی باتوں کے۔۔ 50 لاکھ گھر۔۔۔ ایک کروڑ نوکریاں۔۔۔ باہر کے ملکوں سے پیسوں کی بارش ہونی تھی۔۔۔پیٹرول 50 روپے لیٹر ملنا تھا۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ذرا دوسری جا نب بھی دیکھیئے۔ وہ یہ کہ حکومت کی جانب سے تو قومی معیشت میں اپنی کامرانیوں کے دعوؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ملکی معیشت کے استحکام اور شرح نمو میں اضافہ بیان کیا جارہا ہے۔ یہ نوید بھی سنائی جارہی ہے کہ کٹھن وقت ختم ہوچکا ہے، حکومت کے باقی دو برس میں اب ملک ترقی و خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ حکومتی وزرا و مشیروں کے بیانات اور دعوے سن کر فطری طور پرعوام کی غربت اور مہنگائی میں ریلیف کے حوالے سے آنے والے میزانیوں کے ساتھ توقعات وابستہ پیدا ہوئیں۔ جبکہ حکومتی دعووں نے ان توقعات کومہمیز لگائی، وفاقی بجٹ کو عوام دوست کہا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اکثرو بیشتر اپنے بیانات میں مہنگائی پر قابو پانے اور ملکی معیشت کی بہتری کی نوید عوام کو سناتے رہتے ہیں۔حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان سنا رہے ہیں۔ ملکی معاشی ترقی کے موجودہ مالی سال میں تقریباً چار فیصد کی رفتار سے بڑھنے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزامات کاسامنا ہے۔ پاکستان میں بیوروکریسی کسی بھی حکومت کوخوش کرنے کے لیے اس قسم کی خدمات فراہم کرنے پر آمادہ رہتی ہے اور سیاسی لیڈر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے انہیں استعمال کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں تمام 

شعبوں کی پیداواری صلاحیت کا سالانہ سروے نہیں کیا جاتا بلکہ بعض شعبوں میں تو دس سال سے کوئی سروے نہیں ہوا۔ اس صورت میں سرکاری اعداد و شمار تیار کرنے کے لیے متعلقہ شعبہ کی پیداواری صلاحیت میں سالانہ ممکنہ اضافے کاتخمینہ لگا کر اوسط نکالی جاتی ہے اور اعداد و شمار میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ طریقہ حقیقی نہیں بلکہ جعلی ہوتا ہے جس سے کسی ملک کی معاشی صحت کا درست اندازہ نہیں کیا جاسکا۔مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پیٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اب وفاقی بجٹ کے آفٹر شاکس آنا شروع ہوگئے ہیں او رموجودہ بجٹ سابقہ میزانیوں کی طرح اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہی نظر آرہا ہے۔ 

آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بجٹ میں مروجہ ٹیکس بڑھائے گئے ہیں اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نظر آرہی ہے اور اس کے برعکس تنخواہ دار، تاجر اور مزدور طبقات کو اپنے لیے ریلیف کی بجائے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عوام تو اس وقت بھی عملاً مہنگائی کے ہاتھوں ذبح ہوچکے ہیں اور اب بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے جو عوامی اضطراب بڑھانے کا موجب بن سکتا ہے۔ اسی طرح سٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ بھی اقتصادی ترقی کے معاملہ میں کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں جس میں مہنگائی 9 فیصد اور بجٹ خسارہ سات اعشاریہ پانچ فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ جس کی بنیاد پر اسے عوام دوست بجٹ تو نہیں کہا جاسکتا جبکہ مہنگائی کے حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ بھی تشویش ناک ہے جس کے بقول ملک میں ایک سال کے دوران مہنگائی کے طوفان اٹھے ہیں اور مہنگائی کی شرح دس اعشاریہ 87 فیصد پر جا پہنچی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ”کورونا وائرس نے ملک میں موجود عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے جس کے باعث لاکھوں غیرمحفوظ افراد پر روزگار سے محرومی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔“ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے وہیں سماجی اور نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جن میں آٹا، دالیں، چینی وغیرہ شامل ہیں لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث نہ صرف ملکی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے بلکہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اب تو تاجر اور صنعت کار برادری بھی صدائے احتجاج بلند کرتی نظر آتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح عوام کامسئلہ صرف مہنگائی ہے اسی طرح حکومت کا مسئلہ صرف اپوزیشن نہیں بلکہ مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ افراطِ زر کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے سامان اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ افراطِ زر کی پریشانی اس وقت پید اہوتی ہے جب ہمیں غیرمتوقع مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتاہے جو لوگوں کی آمدنی سے مناسبت نہیں رکھتا ہے۔ معیشت کو آسانی سے چلانے کے لیے مرکزی بینک افراط زر کو محدود کرنے اور افراط سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افراطِ زر وہ شرح ہے جس پر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں کی عمومی سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے نتیجے میں کرنسی کی قوتِ خرید کم ہورہی ہے۔ اگر سامان کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو ہر ایک کی قوت خرید مؤثر طریقے سے کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت سست یا مستحکم ہوسکتی ہے۔با ٹم لا ئن یہ کہ سب سے زیادہ متاثر نچلا طبقہ ہے جو کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے مکانوں او ردکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جن کو کسی بھی حکومت نے کنٹرول کرنے کی کبھی نہ تو کوشش کی نہ ہی اس ضمن میں کبھی قانون سازی عمل میں آئی۔