قطر کے شاہی خاندان کے افراد پردہشت گردی کی معاونت میں ملوث ہونے کا الزام

قطر کے شاہی خاندان کے افراد پردہشت گردی کی معاونت میں ملوث ہونے کا الزام

دوحہ:امریکی انٹیلی جنس اداروں اور محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں انکشاف کیا کیا گیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر کے حکمران آل ثانی خاندان کے افراد دہشت گرد تنظیموں کی معاونت اور القاعدہ جیسے گروپوں کو بھاری مدد، انہیں قطر میں پناہ وتحفظ دینے میں ملوث پائے گئے ہیں۔


عرب ٹی وی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اور وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ دستاویزی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قطر کے حکمراں آل ثانی خاندان کے افراد اپنے سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پردہشت گرد تنظیموں کی براہ راست معاونت کرتے، دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیتے، ان کے دہشت گردانہ ایجنڈے کو دوسرے ملکوں تک پہنچانے میں مدد کرتے۔

انہیں ہرطرح کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیںرپورٹس کے مطابق قطری وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور وزیر داخلہ عبداللہ بن خالد بن حمد آل ثانی نے قطر میں قائم اپنے نجی فارم ہاو¿س میں 100 شدت پسندوں کو پناہ مہیا کی۔ ان میں افغانستان میں لڑنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ انہیں دوسرے ملکوں کے سفر کے لیے پاسپورٹس فراہم کیے گئے۔

ان میں سرفہرست القاعدہ کے خالد شیخ محمد اور دیگر شامل ہیں۔ قطری وزارت مذہبی امور براہ راست ان شدت پسندوں کی مالی مدد بھی کرتا رہا ہے۔حکمراں خاندان کی ایک اور شخصیت عبدالکریم آل ثانی پر عراق میں القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی کو پناہ دینے اور سنہ 2002ءمیں اسے افغانستان سے عراق منتقل کرنے میں مدد فراہم کی اور ساتھ ہی اسے شمالی عراق میں اپنی تنظیم کے قیام کے لیے ایک ملین ڈالر کی رقم بھی مہیا کی گئی۔قطر کے حکمراں خاندان کے ساتھ ساتھ ان کی مقرب تنظیمیں بالخصوص قطر الخیریہ بھی دہشت گردوں کی بڑی سپورٹر سمجھی جاتی ہے۔ اس تنظیم کا ڈائریکٹر القاعدہ کارکن بتایا جاتا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔