روزہ رکھوا کر پاگل پن کے مریضوں کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے، ماہرین

انقرہ: روزہ داروں کیلئے ماہر صحت نے بڑی خوشخبری سنا دی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے دماغی مرض ”شیزوفرینیا “ کی شدت میں70 فیصدکمی ہوجاتی ہے۔ ترک ماہر دماغی و اعصابی امراض ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا ہے کہ روزے کا سب سے زیادہ فائدہ ڈپریشن کے مریضوں کو ہوتا ہے اور ان کی بیماری کی شدت کم ہوجاتی ہے روزے سے نہ صرف ڈپریشن کم ہوجاتا ہے بلکہ مریض پر دواؤں کے اثرات بھی نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

روزہ رکھوا کر پاگل پن کے مریضوں کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے، ماہرین

انقرہ: روزہ داروں کیلئے ماہر صحت نے بڑی خوشخبری سنا دی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے دماغی مرض ”شیزوفرینیا “ کی شدت میں70 فیصدکمی ہوجاتی ہے۔ ترک ماہر دماغی و اعصابی امراض ڈاکٹر محمد واسع شاکر نے کہا ہے کہ روزے کا سب سے زیادہ فائدہ ڈپریشن کے مریضوں کو ہوتا ہے اور ان کی بیماری کی شدت کم ہوجاتی ہے روزے سے نہ صرف ڈپریشن کم ہوجاتا ہے بلکہ مریض پر دواؤں کے اثرات بھی نمایاں ہونے لگتے ہیں۔


اس سلسلے میں ماسکو کے انسٹیٹیوٹ آف سائیکاٹری میں ایک تحقیق کی گئی جس میں ہزاروں مریضوں پر تجربات کرکے ثابت کیا گیا کہ شیزوفرینیا اور پاگل پن کے جو مریض عام طور پر دواوں سے کنٹرول میں نہیں آتے ان کو اگر روزہ رکھوایا جائے تو شیزوفرینیا کے مرض میں70 فیصدکمی ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روزہ رکھنے سے اعصابی کمزوری ، ڈپریشن اور تشویش کی بیماری (اینگزائٹی ) میں خاصہ افاقہ ہوتا ہے جبکہ جن لوگوں کو پینک اٹیک ہوتے ہیں ان کی تکلیف میں بھی روزہ رکھنے سے کمی آجاتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے بائی پولر ڈس آڈر جس میں موڈ یکلخت بدل جاتا ہے بھی کنٹرول ہو جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ جسمانی صحت کی طرح دماغی صحت بھی انسان کے لیے نہایت ضروری ہے دنیا میں دماغی بیماریاں نہ صرف عام ہیں بلکہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔